زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
فلورنس اٹلی میں 6 اکتوبر 1995 کو ایک سائنسی کانفرنس کے دوران 2 سوئس ماہر فلکیات نے ایک اعلان کیا تھا جس نے ہمارے نظام شمسی سے باہر کائنات کے تصور کو بدل دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا نے دور افتادہ سیارے پر زندگی کے ٹھوس آثار ڈھونڈ نکالے
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف جنیوا کے مائیکل مِیئر اور ان کے پی ایچ ڈی طالب علم ڈیدیے کوئلوز نے کہا کہ انہوں نے سورج کے علاوہ کسی ستارے کے گرد ایک سیارہ دریافت کیا ہے۔
یہ 51 پیگاسی ہے جو پیگاسس برج میں تقریباً 50 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کا نئے دریافت شدہ سیارہ ہمارے روایتی اندازِ فکر کے مقابلے بالکل مختلف تھا۔
یہ ایک گیس دیو کی مانند سیارہ تھا کم از کم مشتری کے نصف سے بھی زیادہ جسمانی حجم کا اور صرف 4 دنوں سے کچھ زائد عرصے میں اپنے ستارے کا مدار طے کرتا تھا۔
ستارے کے اس قدر قریب مداری دورانیے نے یہ سیارہ بالکل ایک بھٹی جیسا بنا دیا تھا جہاں درجہ حرارت ایک ہزار ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔
اس حیران کن دریافت کے پیچھے آلہ ایلوڈی تھا جو 2 سال قبل ہاؤٹ پروونس دوربین خانے میں نصب کیا گیا تھا۔ ایلوڈی نے ستاروں کی روشنی کو مختلف رنگوں میں تقسیم کیا جیسے ایک فلکی بارکوڈ جو ستاروں کی کیمیائی خصوصیات ظاہر کرتا ہے۔
میئر اور کوئلوز نے دیکھا کہ 51 پیگاسی کا بارکوڈ ہر 4 اعشاریہ 23 دن بعد تھوڑا سا ہلتا ہے اس سے ان کو اندازہ ہوا کہ ایک پوشیدہ سیارہ ستارے کو جھنجھوڑ رہا ہے۔
ابتدائی طور پر سائنسدان شکوک میں رہے مگر 3 سال کی تحقیق اور شکوک کا ازالہ کرنے کے بعد یہ تصدیق ہوئی کہ یہ مختلف اقسام کے ڈائنامکس کی وجہ سے ممکن ہے۔
اس سیارے نے نہ صرف ایک نیا کلاس تخلیق کیا بلکہ اس نے یہ ثابت کیا کہ ہمارے نظامِ شمسی جیسی مثالیں نایاب نہیں ہو سکتیں۔
مزید پڑھیے: نودریافت سیارے میں خاص کیا ہے؟
اس دریافت کے بعد کے 30 سالوں میں 6 ہزار سے زائد ایکسوپلینٹس اور ممکنہ امیدوار دریافت کیے گئے ہیں۔ ان سیاروں کی نوعیت انتہائی متنوع ہے۔ الٹرا ہاٹ مشتری، 2 ستاروں کے گرد گردش کرنے والے سیارے، سپَر پف گیس دیو اور چھوٹے چٹان نما سیارے جو مرکزی ستارے کے بہت قریب ہیں۔
میئر اور کوئلوز نے سنہ 2019 میں نوبل انعام جیتا کیونکہ اس تحقیق نے ثابت کیا کہ تقریباً ہر ستارے کے گرد سیارے ہو سکتے ہیں لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اب تک ایسا کوئی سیارہ دریافت نہیں ہوا جو ہمارے نظام شمسی کی طرح مکمل طور پر مماثلت رکھتا ہو۔
آج بھی زمین جیسا سیارہ وہ جو حجم، ماس اور درجہ حرارت میں زمین کے قریب ہو، ایسی تلاش جاری ہے۔ ایسی تلاش میں ہم جدید اسپیکٹروگراف جیسے ہارپس این کا استعمال کرتے ہیں جو ستاروں کے روشنی کو وقفے وقفے سے ماپ کر ممکنہ جھٹکوں کا جائزہ لیتا ہے۔ ان جھٹکوں سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ آیا کوئی سیارہ اس ستارے کو اپنی کشش ثقل سے حرکت دے رہا ہے۔ مثال کے طور پر زمین سورج کو ہر سیکنڈ میں صرف 9 سینٹی میٹر کی رفتار سے ہلانے کی صلاحیت رکھتی ہے جو بہت نرم مگر قابلِ پیمائش ہے۔
بعض اوقات ہمیں ٹرانزٹ ٹیکنیک بھی استعمال کرنی پڑتی ہے جب ایک سیارہ اپنے ستارے کے سامنے گزرتا ہے تو ستارے کی روشنی وقتی طور پر مدھم ہو جاتی ہے جس سے ہم اس سیارے کا ریڈیئس ناپ سکتے ہیں۔ اس طریقے نے ہمیں لاکھوں ستاروں کا ڈیٹا فراہم کیا اور ہمیں یہ جاننے میں مدد دی کہ کس ستارے کے گرد زمین نما سیارے ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: کیا ہم اگلی دہائی میں خلائی مخلوق کا سراغ پا لیں گے؟
خطے بعید ترین سیارے جیسے Sweeps‑11b سے لے کر ہمارے قریبی ستارے Proxima Centauri کے قریب سیارے تک کی دریافتیں ہمیں بتاتی ہیں کہ یہ کائنات کس حد تک متنوع ہے۔
لیکن سب سے بڑی تلاش باقی ہے۔ سچی زمین جیسا سیارہ۔ یہ وہ سیارہ ہوگا جو نہ صرف ہموار طور پر زمین کی طرح ہو بلکہ اس کا ستارہ بھی سورج جیسا ہو اور وہ مناسب فاصلے پر گردش کرے جہاں پانی مائع حالت میں رہ سکے۔ اگر ایسا سیارہ مل جائے تو یہ زندگی تلاش کرنے کا سب سے بہتر مقام ہوگا۔
فی الحال ریڈیل ویلاسٹی تکنیک سب سے موزوں طریقہ ہے جیسا کہ میئر اور کوئلوز نے پہلی دریافت کے لیے استعمال کیا تھا۔ 30 سال بعد دنیا بھر کی ٹیمیں ہارپس تھری جیسے نئے آلات کی تیاری میں مصروف ہیں تاکہ آئندہ دہائیوں میں ہماری تلاش کو مزید گہرائی دی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے: اڑن طشتری والی مخلوق کا تعلق کس سیارے سے ہے، انوکھا نقطہ نظر
اور اگر ہم ’انیوک‘ نہ بھی ہوں یعنی اگر ہمارا نظام شمسی اور زمین ہی منفرد ہوں تب بھی یہ تلاش ہمارے کائناتی شعور کو وسعت دیتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
51 پیگاسی زمین جیسا سیارہ نیا سیارہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: زمین جیسا سیارہ نیا سیارہ کوئلوز نے ستارے کے کے گرد
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم