امریکا: نیشنل گارڈ کی تعیناتی کیخلاف الی نوائے کا عدالت سے رجوع
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
امریکا کی ریاست الی نوائے اور شکاگو شہر نے ٹرمپ انتظامیہ کو نیشنل گارڈ کی تعیناتی سے روکنے کے لیے وفاقی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا۔
الی نوائے کے گورنر جے بی پریتزکر (JB Pritzker) نے صدارتی اقدام کو یلغار قراردیا ہے۔
ریاست کے گورنر نے کہا کہ ٹرمپ نے اس یلغار کا آغاز وفاقی ایجنٹس بھیج کر کیا تھا اور ہماری خواہشات کے برعکس اب جلد ہی وفاقی اہلکار تعینات کیے جارہے ہیں جس میں دوسری ریاست کے فوجی دستے یہاں بھیجا جانا بھی شامل ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ نیشنل گارڈ کی تعیناتی فوجی قبضے کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ الی نوائے کی مخالفت کے باوجود سیکڑوں نیشنل گارڈ ریاست بھیجیں گے جن میں سے بعض ٹیکساس سے الی نوائے منتقل کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ مقدمے میں صدرٹرمپ، ہوم لینڈ سیکیورٹی وزیر کرسٹی نوئم اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو نامزد کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نیشنل گارڈ الی نوائے
پڑھیں:
بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتال کی کالیں غیر قانونی قرار
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی آئینی عدالت نے بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی جانب سے دی جانے والی ہڑتال کی کالیں غیر قانونی قرار دے دیں۔وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق عدالت نے تفصیلی فیصلہ میں لکھا کہ یہ ہڑتالیں سائلین کے انصاف تک رسائی کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہیں، ایسی ہڑتالیں شہریوں کو قانونی نمائندگی سے محروم اور پہلے سے دباؤ کا شکار اور عدالتی نظام پر مزید بوجھ ڈالتی ہیں، جب ہڑتال کی کال دی جاتی ہے تو وکلا تنظیمیں وکلا کو عدالتوں میں پیش ہونے سے روکتی ہیں۔
سمرکیمپ سے متعلق احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، وزیر تعلیم پنجاب
فیصلہ میں بتایا گیا کہ وکیل کی عدم پیشی پر مقدمے کی سماعت بغیر کسی پیش رفت کے ملتوی کر دی جاتی ہے، ہمارا قانونی نظام پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے، عدالتوں میں مقدمات کی طویل فہرستیں موجود ہیں، سائلین کو اپنے مقدمات کے فیصلے کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ چاہے وکلا کی ہڑتال کا مقصد کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو، یہ مسئلے کا حل نہیں، انصاف تک رسائی سے کسی بھی شکل میں محروم کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔
واضح رہے کے پی بار کونسل نے وکلا کو وکیل کے قتل میں نامزد ملزم ایس ایچ او کی قانونی نمائندگی سے روکا، پولیس افسر کی قانونی نمائندگی پر وکیل کا لائسنس معطل کر دیا گیا، متاثرہ وکیل نے لائسنس معطلی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تاہم پشاور ہائیکورٹ نے درخواستیں منظور کرتے ہوئے لائسنس بحالی کا فیصلہ دیا۔
سندھ سے تیل اور گیس کے ذخائر دریافت
آئینی عدالت نے وکیل کے لائسنس بحال کرنے کا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔