انہوں نے کہا کہ وہ لہہ اپیکس باڈی، کارگل ڈیموکریٹک الائنس اور لداخ کے عوام کے ساتھ چھٹے شیڈول کے نفاذ اور ریاست کے درجے کے حقیقی آئینی مطالبات میں مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ غیز قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے خطے لداخ کے معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے کہا ہے کہ وہ لہہ میں اپنے حقوق کیلئے حالیہ احتجاج میں بھارتی پولیس کی بلااشتعال فائرنگ سے چار شہریوں کی ہلاکت کے واقعے کی آزادانہ عدالتی تحقیقات تک جیل میں قید رہنے کیلئے تیار ہیں۔ ذرائع کے مطابق کالے قانون نیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتاری کے بعد اپنے پہلے پیغام میں سونم وانگچک نے 24 ستمبر کو بھارتی پولیس کی فائرنگ میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے حقوق کیلئے پرامن جدوجہد جاری رکھنے کے لداخ کے عوام کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ لہہ اپیکس باڈی، کارگل ڈیموکریٹک الائنس اور لداخ کے عوام کے ساتھ چھٹے شیڈول کے نفاذ اور ریاست کے درجے کے حقیقی آئینی مطالبات میں مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لداخ کے عوام کے مفاد میں ایپکس باڈی جو بھی اقدام کرے گی، وہ ان کے ساتھ ہیں، وانگچک نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں اور اپنی تحریک کو عدم تشدد کے تحت جاری رکھیں۔ وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی انگمو نے سپریم کورٹ میں ایک عرضداشت کے ذریعے ان کی غیر قانونی نظربندی کو چیلنج کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: لداخ کے عوام کے انہوں نے

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار