دورانِ سفر صمد فلوٹیلا پر 3 ڈرون اٹیک ہوئے: سابق سینیٹر مشتاق احمد
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
جماعتِ اسلامی کے رہنما و سابق سینیٹر مشتاق احمد—فائل فوٹو
جماعتِ اسلامی کے رہنما و سابق سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ دورانِ سفر صمد فلوٹیلا پر 3 ڈرون اٹیک ہوئے۔
انہوں نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے 30 دن اور 30 راتیں سمندر میں گزاریں۔
اسرائیلی حراست سے رہائی پانے والے سابق سینیٹر مشتاق پاکستان واپس پہنچ گئے۔
سابق سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ 2 سال سے زائد ہو گئے، فلسطین میں مسلمانوں کا قتلِ عام ہو رہا ہے، غزہ میں ہزاروں کی تعداد میں بچے معذور اور یتیم ہو گئے۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلمان ممالک کو مل کر فلسطین سے متعلق غور کرنا ہو گا، 2 سال سے فلسطین میں ہونے والی نسل کشی ظلم کی انتہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سابق سینیٹر مشتاق احمد
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔