بھارت سے رہائی پا نے والے 52 ماہی گیر وطن واپس پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور:۔ بھارت کی جیلوں سے رہائی پانے والے 52پاکستانی ماہی گیر واہگہ بارڈر کے راستے وطن واپس پہنچ گئے۔ رینجرز نے ضابطے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد رہائی پانے والے ماہی گیروں کو ایدھی فاﺅنڈیشن کے حوالے کر دیا جنہیں خصوصی گاڑیوں کے ذریعے لاہور سے کراچی روانہ کیا جائے گا۔
بھارت سے رہائی پا کر وطن واپس آنے والے ماہی گیروں میں علی نواز، غلام علی، محمد اسلم، صدام حسین، علی بخش، غلام نبی، علی اصغر ، محمد موسیٰ، پیارے علی، یاسین شیخ، محمد شیخ، عبدالرحمن، محمد سلیم، محمد رضوان، محمد ابراہیم، اسماعیل میو، محمد سعید، نورالحسن، محمد اسحاق، جسیم خان، محمد لطیف، محمد عمران، جسیم، رشید، محمد شوکت علی، حبیب اللہ، محمد محمود، شاہ عالم، نذیز حسین، محمد ایاز، احمد کاٹیار، حسین کاٹیار، غلام حسین، عبدالستار، احسن پٹوانی، عرب پٹوانی، مقبول پٹوانی، غلام حسین، راجو، گڈو پٹوانی، محمد یعقوب، یاسین خان، نعمان، مجیب اللہ، محمد الیاس، رحمان علی، محمد سلیم، اختر علی، محمد اسحاق، نور کبیر، مجیب اللہ، محمد اسماعیل، محمد رفیق، نور الحق اور میزان شامل ہیں۔ ماہی گیروں کو سمندری حدود کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔