’احترام کا رشتہ برقرار رہے گا‘ مشتاق احمد خان کا جماعت اسلامی سے علیحدگی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے انکشاف کیا ہے کہ وہ جماعت اسلامی سے استعفیٰ دے چکے ہیں۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں اپنے سیاسی اسٹیٹس کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جس رات انہوں نے استعفیٰ دیا، وہ سی طرح روئے جیسا اپنی والدہ کے انتقال پر روئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ’میرے پاسپورٹ پر اسرائیل کی ناپاک مہر نہیں لگی‘، وطن واپسی پر سینیٹر مشتاق احمد کا بیان
مشتاق احمد خان نے بتایا کہ انہوں نے 19 ستمبر کو صمود فلوٹیلا پر سفر کے دوران جماعت اسلامی سے استعفیٰ دیدیا تھا، تاہم اس پر کوئی ریسپانس نہیں ملا۔
Former Pakistani Senator Mushtaq Ahmad Khan has resigned from Jamaat-e-Islami (JI), the Islamist political party in Pakistan.
He announced his resignation on October 9, 2025, during an appearance on Geo News’ Capital Talk with host Hamid Mir.
It’s a rare act of integrity in a… pic.twitter.com/4aZ1jl6MM4
— NaziaImtiazHussain (@NaziaIHussain) October 9, 2025
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کے ساتھ ان کا احترام اور محبت کا رشتہ آج بھی برقرار ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس اور فلسطین کے مقصد کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور اب ان کی توجہ انسانی حقوق، آزاد میڈیا اور جمہوریت کے فروغ پر مرکوز ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی سیاسی جماعت میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
مزید پڑھیں: حکومتی ایوانوں میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے ’قبرستان جیسی خاموشی‘ ہے، مشتاق احمد
مشتاق احمد خان نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی سے ان کے احترام اور عزت کا رشتہ ہمیشہ قائم رہے گا۔
’میں جماعت اسلامی کا احسان مند ہوں، یہ تعلق تا حیات اور قبر تک رہے گا۔‘
سابق سینیٹر نے بتایا کہ ’صمود فلوٹیلا‘ کے سفر کے دوران 3 مرتبہ ڈرون حملے ہوئے، لیکن تمام مسافر محفوظ رہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف اور جماعتِ اسلامی کی نئی لڑائی کیا ہے؟
انہوں نے کہا کہ بعض تنظیمی حدود اور اسٹرکچر کی وجہ سے چند معاملات میں اختلاف رائے موجود تھا، تاہم ان کے دل میں جماعت اسلامی اور امیر حافظ نعیم الرحمن کے لیے آج بھی بے حد احترام ہے۔
مشتاق احمد خان نے اعلان کیا کہ وہ ملک بھر میں پاک فلسطین کمیٹیاں قائم کریں گے تاکہ فلسطین کے لیے عوامی حمایت کو منظم کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
استعفی انسانی حقوق جماعت اسلامی جمہوریت صمود فلوٹیلا فلسطین مشتاق احمد خان
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: استعفی جماعت اسلامی جمہوریت صمود فلوٹیلا فلسطین مشتاق احمد خان مشتاق احمد خان نے جماعت اسلامی سے انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز