سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے جماعت اسلامی سے استعفی دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے جماعت اسلامی سے استعفی دے دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 9 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز ) سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے جماعت اسلامی سے استعفی دے دیا۔مشتاق احمد خان نے جماعت اسلامی سے استعفی دینے کی تصدیق کی۔مشتاق احمد خان نے کہا کہ انہوں نے گلوبل صمود فلوٹیلا پر سفر کے دوران 19 ستمبر کو اپنا استعفی بھیجا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں اب تک اس استعفی پر کوئی جواب نہیں ملا۔مشتاق احمد استعفے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا تنظیم کی اپنی حدود ہوتی ہیں اور بعض اوقات آپ آزادانہ کام کرتے ہیں
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبر”بس بہت ہو گیا” اب دہشت گردوں کا سر کچلنا ہوگا: وزیراعظم شہباز شریف ”بس بہت ہو گیا” اب دہشت گردوں کا سر کچلنا ہوگا: وزیراعظم شہباز شریف غزہ امن معاہدے کے بعد ٹرمپ کا دورہ اسرائیل متوقع، کنیسٹ سے خطاب کا امکان افغانستان کے وزیرِ خارجہ کا پہلا دورہ بھارت؛ افغان پرچم کا معاملہ بھارتی حکام کے لیے آزمائش بن گیا افغان سرزمین سے دہشت گردی ہو رہی ہے یہاں چند لوگ ان کی مذمت کرنے سے کتراتے ہیں، وزیردفاع نوبیل امن انعام کا فیصلہ کل ہوگا : ٹرمپ کی شدید خواہش پوری ہوگی یا دل ٹوٹے گا؟ حکومتی ممبران کا اپوزیشن کو ووٹ دینا فلورکراسنگ نہیں ہوگی، اپوزیشن لیڈرکے پیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مشتاق احمد خان نے جماعت اسلامی سے استعفی
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔