data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(بزنس رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹیلیکچوئلزفورم اورآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان اورپالیسی ایڈوائزری بورڈ ایف پی سی سی آئی کے چیئرمین، سابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کے آئی ٹی سیکٹرکی حقیقی برآمدی صلاحیت کواجاگرکرنے کے لیے فوری اسٹرکچرل اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی کمزوریوں اورادارہ جاتی رکاوٹوں کے باعث ہرسال 1.

2 ارب ڈالرسے زائد کی برآمدی آمدنی ریکارڈ ہونے سے رہ جاتی ہے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان کی آئی ٹی سیکٹر ایکسپورٹس مالی سال 25-2024ء میں 3.8 ارب ڈالرتک پہنچ چکی ہیں جوملکی جی ڈی پی کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ تاہم درحقیقت آئی ٹی برآمدات 5 ارب ڈالرسے زائد ہیں لیکن پیچیدہ غیرملکی زرمبادلہ قوانین اور مشکل ٹیکس نظام کی وجہ سے بیشترفری لانسرز بینکاری نظام سے گریز کرتے ہیں۔میاں زاہد حسین نے مطالبہ کیا کہ برآمدات میں کم ازکم 25 فیصد فوری اضافہ کے لیے تین بڑے اقدامات کیے جائیں جن میں جون 2025ء میں ختم ہونے والی عارضی ٹیکس چھوٹ کے بجائے 100 فیصد انکم ٹیکس کریڈٹ مستقل بنیادوں پردیا جائے، اورٹرن اوورپرکم ازکم ٹیکس ختم کیا جائے۔ انہوں نے آئرلینڈ اورسنگاپورکی مثال دیتے ہوئے کہا کہ عارضی اور جز وقتی رعایتیں غیرملکی سرمایہ کاری اورآئی پی ڈیولپمنٹ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک “ڈیجیٹل ایکسپورٹرز ایف ایکس سمپلی فکیشن ونڈو” قائم کرے، جس کے تحت بینک پے ونئیریا دیگرڈیجیٹل ادائیگیوں کے ثبوت قبول کریں تاکہ برآمد کنندگان کوفوری پروسیڈز ریالائزیشن سرٹیفکیٹ PRC مل سکے۔ ان اقدامات سے ریکارڈ شدہ برآمدات میں 1.2 ارب ڈالرسالانہ اضافہ ممکن ہے۔میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ پاکستان کا 99 فیصد آئی ٹی ہارڈویئر درآمدی ہے، جوزرمبادلہ کے ذخائراورملکی سائبرسکیورٹی کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مقامی آئی ٹی ہارڈ ویئر مینوفیکچرنگ کوترجیح دے، اورٹیکس چھوٹ، سستی زمین، اورسرمایہ کاری کے مستقل پیکیجز تشکیل دے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ ملک میں سالانہ 75 ہزارآئی ٹی گریجویٹس میں سے 90 فیصد عالمی معیارکے مطابق نہیں، جس سے اسکل اور ٹیلنٹ کا خلا پیدا ہوگیا ہے۔ انہوں نے قومی سطح پرجدید تربیتی پروگرامز شروع کرنے پر زور دیا جومصنوعی ذہانت (AI) اورمشین لرننگ (ML) پرمبنی ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگرنصاب کو ہر 12 ماہ میں جدید تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جائے توپاکستان 2030ء تک 20 ارب ڈالرسالانہ آئی ٹی برآمدات حاصل کرسکتا ہے۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میاں زاہد حسین نے نے کہا کہ انہوں نے برا مدات ا ئی ٹی

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی