data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)جمعیت علما پاکستان ضلع حیدرآباد کی میزبانی میں ملی یکجہتی کونسل اور مختلف مذہبی جماعتوں کا اہم اجلاس جے یو پی کے ضلعی دفتر میں منعقد ہوا، جس کی صدارت جمعیت علما پاکستان ضلع حیدرآباد کے صدر قاری غلام سرور امینی نے کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملی یکجہتی کونسل پاکستان کی ملک گیر احتجاج کی کال پر آج مورخہ10اکتوبر بروز جمعہ کو حیدر چوک حیدرآباد میں فلسطین کے مظلوم عوام سے اظہارِ یکجہتی اور اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔اجلاس میں ملی یکجہتی کونسل و جے یو پی کے مرکزی ترجمان ڈاکٹر یونس دانش، جے یو پی کے مرکزی نائب صدر ناظم علی آرائیں، سنی تحریک پاکستان کے مرکزی رہنما عمران سہروردی، جماعت اہل سنت ضلع حیدرآباد کے امیر قاری احمد علی سعیدی، پاکستان سنی تحریک کے ڈویژنل رہنما محمد عابد قادری، مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان سندھ کے رہنما امیر عبداللہ فاروقی، جماعت اسلامی حیدرآبادکے ضلعی رہنما عبدالباسط، اسلامی تحریک پاکستان کے ضلعی رہنما سید عاصم عباس، شیعہ علما کونسل کے جنرل سیکرٹری ندیم مصطفی چانڈیو، جے یو پی کے ضلعی جنرل سیکرٹری محمد رضوان شیخ اور حافظ محمد رضوان نقشبندی نے شرکت کی۔اجلاس میں شریک رہنماؤں نے مشترکہ طور پر کہا کہ اسرائیل کے وحشیانہ مظالم اور غزہ میں جاری قتل عام پر مسلم حکمرانوں کی خاموشی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ فلسطینی عوام تنہا نہیں پاکستانی قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مر کزی ترجمان ملی یکجہتی کونسل و جمعیت علما پاکستان ڈاکٹر یونس دانش نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اسلامی دنیا متحد ہو کر اسرائیلی جارحیت کا سیاسی، معاشی اور سفارتی طور پر بائیکاٹ کرے۔ جمعیت علما پاکستان اور ملی یکجہتی کونسل عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے اور مسلم حکمرانوں پر دبا بڑھانے کے لیے ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کر رہی ہیں۔مرکزی نائب صدر ناظم علی آرائیں نے کہا کہ امت مسلمہ کو محض بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات کرنے ہوں گے، تاکہ فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کا سلسلہ بند ہو۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جمعیت علما پاکستان ملی یکجہتی کونسل جے یو پی کے کے ضلعی

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ