ملی یکجہتی کونسل کے تحت فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے آج احتجاج کیا جائیگا
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)جمعیت علما پاکستان ضلع حیدرآباد کی میزبانی میں ملی یکجہتی کونسل اور مختلف مذہبی جماعتوں کا اہم اجلاس جے یو پی کے ضلعی دفتر میں منعقد ہوا، جس کی صدارت جمعیت علما پاکستان ضلع حیدرآباد کے صدر قاری غلام سرور امینی نے کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملی یکجہتی کونسل پاکستان کی ملک گیر احتجاج کی کال پر آج مورخہ10اکتوبر بروز جمعہ کو حیدر چوک حیدرآباد میں فلسطین کے مظلوم عوام سے اظہارِ یکجہتی اور اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔اجلاس میں ملی یکجہتی کونسل و جے یو پی کے مرکزی ترجمان ڈاکٹر یونس دانش، جے یو پی کے مرکزی نائب صدر ناظم علی آرائیں، سنی تحریک پاکستان کے مرکزی رہنما عمران سہروردی، جماعت اہل سنت ضلع حیدرآباد کے امیر قاری احمد علی سعیدی، پاکستان سنی تحریک کے ڈویژنل رہنما محمد عابد قادری، مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان سندھ کے رہنما امیر عبداللہ فاروقی، جماعت اسلامی حیدرآبادکے ضلعی رہنما عبدالباسط، اسلامی تحریک پاکستان کے ضلعی رہنما سید عاصم عباس، شیعہ علما کونسل کے جنرل سیکرٹری ندیم مصطفی چانڈیو، جے یو پی کے ضلعی جنرل سیکرٹری محمد رضوان شیخ اور حافظ محمد رضوان نقشبندی نے شرکت کی۔اجلاس میں شریک رہنماؤں نے مشترکہ طور پر کہا کہ اسرائیل کے وحشیانہ مظالم اور غزہ میں جاری قتل عام پر مسلم حکمرانوں کی خاموشی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ فلسطینی عوام تنہا نہیں پاکستانی قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مر کزی ترجمان ملی یکجہتی کونسل و جمعیت علما پاکستان ڈاکٹر یونس دانش نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اسلامی دنیا متحد ہو کر اسرائیلی جارحیت کا سیاسی، معاشی اور سفارتی طور پر بائیکاٹ کرے۔ جمعیت علما پاکستان اور ملی یکجہتی کونسل عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے اور مسلم حکمرانوں پر دبا بڑھانے کے لیے ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کر رہی ہیں۔مرکزی نائب صدر ناظم علی آرائیں نے کہا کہ امت مسلمہ کو محض بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات کرنے ہوں گے، تاکہ فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کا سلسلہ بند ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جمعیت علما پاکستان ملی یکجہتی کونسل جے یو پی کے کے ضلعی
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس