پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کے ارکان اسمبلی آزاد قرار
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اتحاد کونسل اور پاکستان تحریک انصاف اور کے ارکان اسمبلی کو آزاد قرار دے دیا۔ میڈیا رپورٹس مطابق الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کے ارکان اسمبلی کے حوالے سے نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔ الیکشن کمیشن نے قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کی پارٹی پوزیشن جاری کردی۔الیکشن کمیشن نے فیصلہ سپریم کورٹ کے 25 اگست کے فیصلے کی روشنی میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اراکین کو آزاد ظاہر کر دیا۔ فہرست میں سنی اتحاد کونسل کے ایک رکن کو ظاہر کیا گیا ہے۔ تمام اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشنز میں بڑی تبدیلی آئی ہے اور نئی فہرستیں جاری کردی گئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن اتحاد کونسل
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔