امریکا نے ایرانی تیل سے منسلک درجنوں کمپنیوں، افراد اور جہازوں پر پابندیاں عائد کر دیں
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
واشنگٹن: امریکا نے ایران کے تیل کے شعبے سے وابستہ درجنوں کمپنیوں، افراد اور جہازوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ پابندیاں ان اداروں اور شخصیات پر لگائی گئی ہیں جو ایران کی مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی برآمدات اور ترسیلات میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔ ان میں چین کی ایک بندرگاہ اور ’ٹی پاٹ‘ آئل ریفائنری بھی شامل ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے مزید 40 کمپنیوں اور افراد پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان میں ایران کی پیٹروکیمیکل مصنوعات کے بڑے خریدار اور اس تجارت میں شریک اعلیٰ حکام شامل ہیں۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ نے دو ہفتے قبل ایران کے جوہری اور میزائل پروگراموں کے باعث اس پر ’اسنیپ بیک‘ پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکا ایران کی توانائی برآمدی مشین کے بنیادی ڈھانچے کو توڑ کر اس کے مالیاتی ذرائع کو کمزور کر رہا ہے۔
پابندیوں میں چین کی کمپنی شینڈونگ جن چنگ پیٹروکیمیکل گروپ بھی شامل ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے 2023 سے اب تک ایران سے لاکھوں بیرل تیل خریدا۔ اسی طرح لینشان پورٹ کی ایک چینی کمپنی پر بھی پابندی لگائی گئی ہے، جو مبینہ طور پر ایسے جہازوں کی میزبانی کر رہی تھی جو ایرانی تیل کی خفیہ ترسیل میں ملوث تھے۔
یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوری 2025 میں دوبارہ صدارت سنبھالنے کے بعد چین میں موجود آئل ریفائنریوں پر عائد کی جانے والی پابندیوں کا چوتھا مرحلہ ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق، ان تمام افراد و اداروں کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں، جبکہ امریکی شہریوں اور کمپنیوں کو ان کے ساتھ کسی قسم کے لین دین سے روکا گیا ہے۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ جب تک ایران اپنے ’’تخریبی عزائم‘‘ کے لیے تیل کی آمدنی پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہے گا، امریکا اس کا مقابلہ کرتا رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔