غزہ امن معاہدہ: اسرائیلی اجلاس کے دوران نیتن یاہو کا مودی سے رابطہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے پر غور کے دوران جاری سلامتی کابینہ کا اجلاس عارضی طور پر روک کر بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔
یہ بھی پڑھیں:نوبیل امن انعام 2025 کا اعلان آج، غزہ ڈیل میں تاخیر ٹرمپ کے لیے نقصان کا باعث بن گئی
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق نریندر مودی نے نیتن یاہو کو غزہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے پر پیشرفت پر مبارکباد دی۔
مودی نے ایک بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت حاصل ہونے والی پیشرفت پر میں اپنے دوست وزیرِاعظم نیتن یاہو کو مبارکباد دیتا ہوں۔
بھارتی وزیر اعظم نے کہا ہم یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ کے عوام کے لیے انسانی امداد میں اضافے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ دہشتگردی کسی بھی صورت میں ناقابلِ قبول ہے۔
اسرائیلی حکومت نے جمعرات کو امریکی ثالثی میں تیار کردہ 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کے تحت جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے کی منظوری دے دی۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب کا غزہ جنگ بندی معاہدے کا خیر مقدم
اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر بھی یروشلم میں موجود تھے، جہاں معاہدے پر رائے شماری کی گئی۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق جنگ بندی فوری طور پر نافذ ہوگی اور پہلے مرحلے میں یرغمالیوں کی رہائی اور اسرائیلی افواج کا جزوی انخلا شامل ہے۔
حماس کے مذاکرات کار خلیل الحیہ نے تصدیق کی کہ امریکا کی ضمانت کے تحت یہ معاہدہ غزہ میں جاری جنگ کے ’مکمل اختتام‘ کی علامت ہے۔
گزشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان پہلے مرحلے کا امن معاہدہ طے پا گیا ہے، جس سے خطے میں مستقل امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امن معاہدہ بھارتی وزیراعظم غزہ مودی نیتن یاہو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امن معاہدہ بھارتی وزیراعظم نیتن یاہو نیتن یاہو ٹرمپ کے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔