پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) ڈی جی آئی ایس  پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا  کہنا ہے کہ 2014میں اے پی ایس واقعے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں ،صوبائی اور وفاقی حکومتوں پشاور میں بیٹھے اور ایک متفقہ پلان کیساتھ باہر آئے،جس کا نام رکھا گیا نیشنل ایکشن پلان۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کاکہناتھا کہ اس میں کچھ نکات تھے ہمارے سیاسی رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اگر دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑنا ہے توہمیں یہ کام کرنے ہیں،یہ حقیقت آپ کے سامنے ہے اور تاریخ کا حصہ ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کاکہناتھا کہ اس کے بعد پچھلی حکومت نے 2021میں  اس نے انہی نکات میں سے جن پر کچھ کام ہو گیا تھا اس کو خارج کردیااور یہ 14نکات ہیں جس کو نام دیا گیا ری وائز نیشنل ایکشن پلان۔

کن عوامل کی وجہ سے دہشتگردی ہورہی ہے، ڈی جی آئی ایس آئی نے 5نکات پیش کر دیئے

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ ہماری تمام سیاسی عمائدین تمام سیاسی پارٹیوں اور اس وقت کی صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے فیصلہ کیا کہ اگر ملک سے دہشتگردی کاجڑ سے خاتمہ کرنا ہے تو 14پوائنٹ کام کرنے ہیں،موجودہ حکومت نے بھی اسی چیز کو ویژن عزم استحکام کا نام دیا۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: ڈی جی ا ئی ایس تمام سیاسی

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • پانچ اگست کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا: سہیل آفریدی
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی