غزہ کے لوگوں کے نام پر یہاں احتجاج کیوں ہو رہا ہے؟ طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری—فائل فوٹو
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ غزہ امن معاہدے پر خوشیاں منائی جا رہی ہیں، فلسطینیوں نے سجدۂ شکر ادا کیا ہے، سب سے بڑے فریق غزہ کے لوگ ہیں، وہ خوش ہیں، غزہ اور فلسطین کے مسئلے کے حل کے بعد اس احتجاج کی وجہ کیا ہے، غزہ کے لوگوں کے نام پر یہاں احتجاج کیوں ہو رہا ہے؟
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست کسی جتھے کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہو گی، پُرامن احتجاج سب کا حق ہے لیکن کسی کو انتشار کی اجازت نہیں۔
طلال چوہدری نے کہا کہ ماضی گواہ ہے کہ ٹی ایل پی نے جتھے کی صورت میں قومی املاک پر حملے کیے، یہ اپنے مرکزی دفتر ثمن آباد سے راوی روڈ کی طرف جا رہے ہیں، یہ اس لیے نکل آئے ہیں کہ ان پر طاقت کا استعمال نہیں کیا گیا۔
مری روڈ کے اطراف کاروباری مراکز اور ہوٹل بند رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں جبکہ تمام تعلیمی ادارے بھی بند رہیں گے۔
ان کا کہنا ہےکہ ہمارا صوبائی حکومتوں سے رابطہ ہے، کوشش کی جا رہی ہے کہ طاقت کے استعمال کے بغیر ان لوگوں کو روکا جائے، بہت سارے مقدمات زیرِ التواء ہیں جن میں بہت سے پولیس اہلکار شہید ہیں، یہ مقدمات منطقی انجام تک پہنچائے جائیں گے۔
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت اس طرح کی جتھے بازیاں اور مظاہرے آگے بڑھنے نہیں دے گی، آج اسلام آباد میں سرکاری اور نجی ادارے کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ہم نے گرفتار کر لیے ہیں، راستے کھول دیے گئے ہیں، اگر کہیں رکاوٹ رکھی گئی ہے تو وہ شہریوں کو ان شرپسندوں سے بچانے کے لیے ہے۔
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ قانون کی عمل داری ہو گی، احتجاج کرنا ہے تو قانون کے اندر رہ کر کریں، جو بھی نقصانات ہوں مظاہرین کو لیڈ کرنے والے ان کے ذمے دار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔