آئی ایم ایف مذاکرات، زرعی انکم ٹیکس اور کرپشن رپورٹ پر مہلت کی درخواست
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدے کیلئے چار اہم نکات پر ورچوئل مذاکرات جاری ہیں۔
ذرائع وزارتِ خزانہ کے مطابق سیلاب کے باعث صوبوں نے زرعی آمدن پر انکم ٹیکس نافذ کرنے کیلئے مزید مہلت مانگ لی ہے، سیلاب سے زرعی معیشت متاثر ہونے کے سبب صوبے فوری طور پر ایگریکلچر انکم ٹیکس نافذ کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو دسمبر تک گندم کی سرکاری خریداری پالیسی (پروکیورمنٹ پالیسی) ایم ای ایف پی (MEFP) میں شامل کی گئی ہے جبکہ سرکاری افسران کے اثاثے ظاہر کرنے اور کرپشن اینڈ گورننس ڈائیگناسٹک اسسمنٹ رپورٹ کے نکات بھی مذاکرات کا حصہ ہیں۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت نے کرپشن اینڈ گورننس رپورٹ پبلش کرنے کیلئے مہلت طلب کی ہے جبکہ آئی ایم ایف کی جانب سے سرکاری سطح پر گندم خریداری کیلئے اوپن مارکیٹ یا نجی شعبے سے خریداری کا میکنزم فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق معاشی ٹیم نے اسٹرکچرل بنچ مارکس پر نرمی کی درخواست بھی کی ہے تاکہ معاہدہ جلد از جلد مکمل ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف
پڑھیں:
کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
فائل فوٹوکوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔
نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔