پیوٹن کی نوبیل کمیٹی پر کڑی تنقید، ڈونلڈ ٹرمپ کی امن کوششوں کی تعریف
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے نوبیل امن انعام کمیٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس باوقار انعام کی ساکھ ان فیصلوں سے متاثر ہوئی ہے جن میں ایسے افراد کو نوازا گیا جنہوں نے امن کے لیے کوئی ٹھوس کردار ادا نہیں کیا۔
ایک ویڈیو بیان میں صدر پیوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بین الاقوامی سطح پر جاری بحرانوں کے حل کے لیے کی جانے والی مخلصانہ کوششوں کی تعریف کی۔
یہ بھی پڑھیں: نوبیل انعام سے محرومی پر ڈونلڈ ٹرمپ کی خاموشی، مگر سوشل میڈیا پر طوفان
پیوٹن نے کہا کہ نوبیل انعام کس کو ملنا چاہیے، یہ فیصلہ ان کا کام نہیں، تاہم ان کے خیال میں ماضی میں کمیٹی نے ایسے افراد کو بھی یہ اعزاز دیا جنہوں نے حقیقی طور پر امن کے لیے کچھ نہیں کیا۔ ان کے مطابق کئی بار ایسا ہوا کہ کوئی شخص آیا اور چند ماہ میں ہی انعام پا گیا، جبکہ اس نے عملی طور پر کچھ بھی نہیں کیا تھا۔
روسی صدر نے کہا کہ اس طرح کے فیصلوں سے نوبیل امن انعام کی اہمیت اور وقار کو نقصان پہنچا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کے حوالے سے پیوٹن نے محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ وہ اس انعام کے مستحق ہیں یا نہیں، مگر انہوں نے تسلیم کیا کہ صدر ٹرمپ عالمی سطح پر امن کے فروغ اور پرانے تنازعات کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’کمیٹی نے امن پر سیاست کو ترجیح دی‘، نوبیل انعام پر وائٹ ہاؤس برہم
انہوں نے خاص طور پر یوکرین بحران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر اس مسئلے کے پرامن حل کے لیے خلوص نیت سے کوشاں ہیں۔ پیوٹن کے مطابق، کچھ معاملات میں کامیابیاں حاصل ہوئیں، کچھ میں نہیں، مگر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ٹرمپ نے امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا امن ڈونلڈ ٹرمپ روس نوبل انعام ولادیمیر پیوٹن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ڈونلڈ ٹرمپ ولادیمیر پیوٹن ڈونلڈ ٹرمپ پیوٹن نے امن کے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔