پیوٹن کی نوبل امن انعام کمیٹی پر شدیدتنقید، عالمی بحرانوں کے حل کیلئے ٹرمپ کی کوششوں کی تعریف WhatsAppFacebookTwitter 0 11 October, 2025 سب نیوز

ماسکو(سب نیوز )روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے نوبل امن انعام کمیٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہیکہ ماضی میں ایسے لوگوں کو یہ انعام دیا گیا جنہوں نے امن کے لیے کوئی ٹھوس کام نہیں کیا جس سے اس باوقار انعام کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ایک ویڈیو بیان میں پیوٹن نے موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیچیدہ بین الاقوامی بحرانوں کو حل کرنے کی “مخلصانہ کوششوں” کو سراہا۔

صدر پیوٹن نے کہا کہ یہ فیصلہ کرنا میرا کام نہیں کہ نوبل انعام کسے ملنا چاہیے۔ لیکن میرے خیال میں ماضی میں ایسے واقعات ہوئے ہیں جب کمیٹی نے یہ انعام ایسے لوگوں کو دیا جنہوں نے امن کے لیے کچھ نہیں کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ان فیصلوں نے نوبل انعام کی اہمیت کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک شخص آیا، اچھا یا برا، اور ایک یا دو مہینے کے اندر ہی اسے انعام دے دیا گیا، آخر کس لیے؟ اس نے تو حقیقت میں کچھ کیا ہی نہیں تھا۔

صدر پیوٹن کے مطابق ان فیصلوں کی وجہ سے نوبل انعام کی اتھارٹی بڑی حد تک ختم ہوگئی ہے۔امریکی صدر کو انعام نہ دیے جانے کے حوالے سے صدر پیوٹن نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کا فیصلہ نہیں کرسکتے کہ امریکی صدر اس کے مستحق ہیں یا نہیں۔ تاہم انہوں نے امریکی صدر کی امن کوششوں کی تعریف کی۔صدر پیوٹن نے کہا کہ وہ (صدرٹرمپ) واقعی دہائیوں پرانے پیچیدہ بحرانوں کو حل کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔

انہوں نے خاص طور پر یوکرین بحران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یوکرین کے بحران کے حوالے سے وہ مخلصانہ طور پر اس کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔روسی صدر نے مزید کہا کہ کچھ معاملات میں کامیابی ملی ہے اور کچھ میں نہیں لیکن امریکی صدر یقینی طور پر امن کے حصول اور پیچیدہ بین الاقوامی مسائل کو حل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعلی خیبرپختونخوا کا انتخاب: پی ٹی آئی اراکین حمایت کیلئے جے یو آئی مرکز پہنچ گئے وزیراعلی خیبرپختونخوا کا انتخاب: پی ٹی آئی اراکین حمایت کیلئے جے یو آئی مرکز پہنچ گئے نائب وزیراعظم کا ایرانی وزیرخارجہ سے رابطہ، مصر میں ہونے والے سربراہی اجلاس پر مشاورت مذہبی جماعت کے احتجاج میں بہت سے اہلکار لاپتہ ہیں: فیصل کامران بھارت کے بیانات اس بات کی شہادت ہے وہ دوبارہ کوئی ایڈونچر کرے گا: وزیردفاع گورنر ہا ئوس خیبر پختونخوا کو گنڈا پور کا استعفی موصول، فوری منظوری سے معذرت خون کا حساب لینے کے لیے افغانستان میں داخل ہونا ہمارا حق ہے: خواجہ آصف TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف