سٹہ بازی کے شواہد، نوبیل انسٹیٹیوٹ کا ’نوبیل امن انعام‘ لیک ہونے کی تحقیقات کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
ناروے کے نوبیل انسٹیٹیوٹ نے اعلان کیا ہے کہ مشکوک سٹہ بازی کے شواہد سامنے آنے کے بعد وہ یہ تحقیقات کرے گا کہ کیا جمعے کو وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچادو کو دیا گیا ’نوبیل امن انعام‘ اعلان سے پہلے لیک (افشا) ہوا تھا؟۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق پولی مارکیٹ نامی ایک پیشگوئی کرنے والے سٹہ پلیٹ فارم پر ماچادو کے جیتنے کے امکانات جمعرات کی رات سے جمعے کی صبح کے درمیان 3.
تاہم کسی ماہر نے نہ ہی کسی میڈیا ادارے نے ماچادو کو انعام کے ممکنہ امیدواروں میں شمار کیا تھا، جب کہ اوسلو میں اعلان چند گھنٹوں بعد ہی ہونا تھا۔
ڈیٹا اسپیشلسٹ رابرٹ نیس نے نارویجن نشریاتی ادارے ’این آر کے‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ عام طور پر بیٹنگ مارکیٹ میں ایسا نہیں دیکھتے، یہ بہت مشکوک ہے۔
نوبیل کمیٹی کے چیئرمین یورگن واتنے فریڈنس نے نیوز ایجنسی ’این ٹی بی‘ سے گفتگو میں کہا کہ میرے خیال میں انعام کی پوری تاریخ میں کبھی کوئی نوبیل انعام لیک نہیں ہوا، میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ ایسا ہوا ہو۔
اس کے باوجود، نوبیل انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر کرسٹیان برگ ہارپوکین نے تصدیق کی کہ ادارہ اس معاملے کی تحقیقات کرے گا۔
انہوں نے اخبار آفتن پوستن سے کہا کہ ابھی یہ کہنا بہت جلدی ہوگا کہ واقعی یہ لیک ہوا یا نہیں، لیکن ہم اب اس کی چھان بین ضرور کریں گے۔
نوبیل انسٹیٹیوٹ نے ’اے ایف پی‘ کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ صرف چند منتخب افراد کو ہی پیشگی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ 5 رکنی نوبیل کمیٹی کس امیدوار کو انعام دینے والی ہے۔
اگرچہ ماضی میں بعض اوقات نوبیل امیدواروں کے نام نارویجن میڈیا میں غیر متوقع طور پر سامنے آتے رہے ہیں، جس سے ممکنہ لیکس پر قیاس آرائیاں ہوتی رہیں، لیکن حالیہ برسوں میں ایسا نہیں ہوا۔
نوبیل کمیٹی کے مطابق ماچادو کو یہ انعام ’وینزویلا کے عوام کے جمہوری حقوق کے فروغ کے لیے ان کی انتھک جدوجہد اور آمریت سے جمہوریت کی منصفانہ و پُرامن منتقلی کے لیے ان کی کوششوں کے اعتراف میں دیا گیا ہے‘۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نوبیل انسٹیٹیوٹ
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔