مریدکے میں مذہبی جماعت کا دھرنا اختتام پذیر، تصادم میں ایس ایچ او شہید، 4 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مریدکے میں مذہبی جماعت کا دھرنا پولیس کارروائی کے بعد ختم کرادیا گیا۔ صورتِ حال اس وقت سنگین ہوگئی جب مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش پر مشتعل کارکنوں نے پتھراؤ، پیٹرول بموں اور فائرنگ کا سہارا لیا، جس کے نتیجے میں ایک ایس ایچ او شہید اور درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترجمان پنجاب پولیس نے کہا ہے کہ تصادم اس وقت شروع ہوا جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دھرنا ختم کرانے کے لیے کارروائی کی۔ مظاہرین کی جانب سے شدید پتھراؤ اور فائرنگ کے باعث 48 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ حالات پر قابو پانے کے لیے فورس کو اپنے دفاع میں محدود کارروائی کرنا پڑی۔
ترجمان پنجاب پولیس نے مزید بتایا کہ اس دوران مذہبی جماعت کے 3 کارکن اور ایک راہگیر جاں بحق ہوئے، جب کہ آٹھ افراد مختلف نوعیت کے زخموں کے ساتھ اسپتال منتقل کیے گئے۔
پولیس کے مطابق ہنگامہ آرائی کے دوران مشتعل مظاہرین نے 40 سے زائد سرکاری اور نجی گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا، متعدد شیشے توڑ دیے گئے اور املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ کئی افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن بدستور جاری ہے تاکہ ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
ادھر پنجاب سیف سٹی اتھارٹی نے صوبے بھر میں ٹریفک الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے، ٹھوکر نیاز بیگ سے بابو صابو، چونگی امرسدھو سے قصور روڈ، مانگا منڈی سے لاہور کی دونوں سمتوں، پی ایم جی چوک اور داروغوالہ سے سلامت پورہ تک ٹریفک بند کر دی گئی ہے۔
اسی طرح موٹر وے ایم-2 لاہور سے اسلام آباد، ایم-3 لاہور سے عبدالحکیم، اور ایم-11 لاہور سے سیالکوٹ تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے۔ موٹر وے پولیس نے ڈرائیوروں کو ہدایت کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور اپ ڈیٹ شدہ روٹ ایڈوائزری پر عمل کریں۔
دوسری جانب پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے آج ہونے والے تمام امتحانات ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ترجمان یونیورسٹی کے مطابق ایل ایل بی کے امتحانات کل، 14 اکتوبر سے معمول کے مطابق ہوں گے، اور طلبہ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی شیڈولنگ کے لیے یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر نظر رکھیں۔
پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق امن و امان کی بحالی کے بعد علاقے میں صورتحال بتدریج قابو میں آ رہی ہے، تاہم حفاظتی اقدامات کے تحت اضافی نفری بدستور تعینات ہے تاکہ دوبارہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔
سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش
فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار
ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیےاس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔
مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا
اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔
گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیںجاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔
ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔
جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی
سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔
اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا
اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔
’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق
ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔
جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔
ادارت: جاوید اختر