بھارت کے خلاف پہلے ون ڈے سے قبل آسٹریلیا کو بڑا دھچکا، جوش انگلیس اور ایڈم زیمپا اسکواڈ سے باہر
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پرتھ: بھارت کے خلاف پہلے ون ڈے سے قبل آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کو ایک اور بڑا جھٹکا لگ گیا، جب دو اہم کھلاڑی اسکواڈ سے باہر ہوگئے، وکٹ کیپر جوش انگلیس انجری سے مکمل طور پر صحتیاب نہ ہو سکے، جبکہ لیگ اسپنر ایڈم زیمپا خاندانی مصروفیات کے باعث میچ کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔
کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ جوش انگلیس ابھی بھی پچھلے دورے کے دوران لگنے والی چوٹ سے مکمل طور پر نجات حاصل نہیں کر سکے۔ نتیجتاً وہ بھارت کے خلاف پہلے ون ڈے میں شرکت نہیں کریں گے۔ دوسری جانب، زیمپا نے ذاتی وجوہات کی بنا پر ٹیم مینجمنٹ کو عدم دستیابی سے آگاہ کیا۔
حیرت انگیز طور پر آسٹریلیا کے مستقل وکٹ کیپر بلے باز پہلے ہی ٹیم سے باہر ہیں، کیونکہ وہ ایشیز سیریز کی تیاری کے سلسلے میں شیفیلڈ شیلڈ میں شرکت کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں آسٹریلوی سلیکشن کمیٹی نے فوری ردِعمل دیتے ہوئےجوش فلپ کو بطور وکٹ کیپر اورمیتھیو کوہنیمن کو اسپن آپشن کے طور پر اسکواڈ میں شامل کرلیا ہے۔
یہ تازہ مشکلات اس وقت سامنے آئی ہیں جب آسٹریلیا پہلے ہی اپنے دو سینئر کھلاڑیوں کپتانپیٹ کمنز اور آل راؤنڈرگلین میکسویل کی انجری مسائل سے دوچار ہے۔ دونوں کھلاڑی بحالی کے عمل میں مصروف ہیں اور ابتدائی میچز میں ٹیم کو دستیاب نہیں ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق اتنے اہم کھلاڑیوں کی غیر موجودگی آسٹریلیا کے بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں پر اثر ڈال سکتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب ٹیم کو بھارت جیسے طاقتور حریف کے خلاف اپنے دورے کا آغاز کرنا ہے، ٹیم مینجمنٹ پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ نئے کھلاڑیوں کو نہ صرف موقع دیا جائے بلکہ ٹیم کے توازن کو بھی برقرار رکھا جائے۔
پہلا ون ڈے میچ پرتھ میں شیڈول ہے، جہاں توقع کی جا رہی ہے کہ نوجوان کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا بھرپور موقع حاصل کریں گے تاکہ آسٹریلیا اپنی ابتدائی مشکلات کے باوجود ایک مضبوط آغاز کرسکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔