مدغاسکر میں فوجی قبضہ، کرنل مائیکل رینڈرینی رینا کو نیا سربراہِ مملکت نامزد
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انتاناناریوو: افریقی جزیرہ ملک مدغاسکر میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا ہے جہاں فوج کے ایک دھڑے نے صدر آندری راجولینا کی حکومت ختم کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق مدغاسکر کی اعلیٰ آئینی عدالت نے صدر کے عہدے کو خالی قرار دیتے ہوئے فوجی افسر کرنل مائیکل رینڈرینی رینا کو عبوری سربراہِ مملکت کے طور پر کام کرنے کی دعوت دی ہے۔
عدالتی بیان کے مطابق کرنل رینڈرینی رینا کو 60 دن کے اندر نئے صدارتی انتخابات کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، عدالت نے آئین کے آرٹیکل 53 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی صدر کا عہدہ خالی قرار دیا جائے تو 30 سے 60 دن کے اندر انتخابات لازمی ہیں۔
اعلیٰ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ موجودہ صدر آندری راجولینا اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہیں رہے کیونکہ وہ ملک میں موجود نہیں ہیں اور ان کی غیر موجودگی اقتدار سے دستبرداری کے مترادف ہے۔
اس سے قبل کپساٹ (CAPSAT) کے سربراہ کرنل مائیکل رینڈرینی رینا کی قیادت میں فوجی اہلکاروں نے دارالحکومت انتاناناریوو کے صدارتی محل پر قبضہ کر کے اقتدار سنبھالنے کا اعلان کیا تھا۔
فوج کے ترجمان نے بتایا کہ ملک کا اقتدار عارضی طور پر فوجی افسران کے ایک مشترکہ کونسل کے سپرد کیا گیا ہے جو آئندہ دو سال تک ملک کا انتظام سنبھالے گی۔ اس عبوری مدت میں نیا آئین تیار کرنے کے لیے ریفرنڈم بھی کرایا جائے گا۔
ادھر عدالت کے اعلان کے بعد ملک میں افراتفری کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے، حکومت کی پانچ بڑی آئینی و سیاسی اداروں، اعلیٰ آئینی عدالت، الیکشن کمیشن، سینیٹ، انسانی حقوق کا دفاعی کونسل اور ہائی کورٹ آف جسٹس کو معطل کر دیا گیا ہے، قومی اسمبلی کو کام جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
خیال رہےکہ سیاسی بحران کی جڑ ستمبر سے جاری عوامی احتجاج ہے جو ابتدا میں پانی اور بجلی کے بحران پر شروع ہوا تھا مگر جلد ہی کرپشن اور صدر کے استعفے کے مطالبات میں تبدیل ہو گیا۔
صدر راجولینا نےگزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ ان پرقاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد وہ محفوظ مقام پر منتقل ہو گئے، بعض رپورٹس کے مطابق انہیں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی مداخلت کے بعد فوجی طیارے کے ذریعے فرانس منتقل کیا گیا۔
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے صحافی ارشد شریف قتل کیس کی سماعت مقرر کر دی
وفاقی آئینی عدالت نے صحافی ارشد شریف قتل کیس کی سماعت 3 دسمبر کو کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان پر مشتمل 2 رکنی بینچ مقدمے کی سماعت کرے گا۔
مزید پڑھیں: ارشد شریف قتل کیس از خود نوٹس، لارجر بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ کمیٹی کے سپرد
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر از خود نوٹس لیا تھا، اور 27ویں آئینی ترمیم کے بعد ازخود نوٹس کے مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ارشد شریف قتل کیس وفاقی آئینی عدالت