ریاستی اداروں کےخلاف ٹوئٹ کا مقدمہ ، مقامی عدالت نے فلک جاوید کی ضمانت منظور کرلی
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) مقامی عدالت نے ریاستی اداروں کے خلاف ٹویٹ کے مقدمے میں فلک جاوید کی ضمانت منظور کرلی۔ایکسپریس نیوز کے مطابق سیشن کورٹ لاہور میں ریاستی اداروں کے خلاف ٹویٹ کے مقدمہ کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے فلک جاوید کی ضمانت منظور کرلی۔عدالت نے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کےبعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ فلک جاوید کی جانب سے میاں علی اشفاق اور رانا رؤف ایڈووکیٹ نے دلائل دیے۔ایڈیشنل سیشن جج ساجد احمد چوہدری نے ضمانت بعدازگرفتاری پر سماعت کی۔ فلک جاوید کے خلاف این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کیا ہے۔
کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد، لاہور کیمپس اور نیشنل انکیوبیشن سینٹر کے درمیان سٹریٹیجک شراکت داری قائم
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: فلک جاوید کی عدالت نے
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔