بنگلہ دیش کی مفرورشیخ حسینہ کو سزائے موت کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
ڈھاکا: بنگلہ دیش کی مفرور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت دینے کا مطالبہ کردیا گیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق طالب علموں کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کو کچلنے کی ناکام کوشش میں مہلک کریک ڈاو ¿ن کا حکم دینے کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے شیخ حسینہ نے بھارت سے واپسی کے عدالتی احکامات کی نفی کی ہے، چیف پراسیکوٹر تاج الاسلام نے عدالت کے باہر صحافیوں کو بتایا کہ ہم اس مقدمے میں سابقہ وزیراعظم کے لیے اعلیٰ ترین سزا کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ملک میں ایک قتل کے لیے ایک سزائے موت کا قانون ہے، 1 ہزار 400 افراد کے قتل کے لیے شیخ حسینہ کو 1 ہزار 400 بار سزا دی جانی چاہیے لیکن چونکہ یہ انسانی طور پر ممکن نہیں ہے اس لیے ہم کم از کم ایک بار سزائے موت کا مطالبہ کرتے ہیں۔
استغاثہ کا الزام ہے کہ اپنے دور حکومت میں 78 سالہ شیخ حسینہ وہ مرکز تھیں جن کے گرد جولائی اگست کی بغاوت کے دوران کیے گئے تمام جرائم گھومتے ہیں، ان پر دو سابق سینئر عہدیداروں کے ساتھ غیر حاضری میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔
سابق وزیر داخلہ اسد الزماں خان کمال بھی مفرور ہیں، سابق پولیس چیف چوہدری عبداللہ المامون زیر حراست ہیں اور انہوں نے اعتراف جرم بھی کرلیا ہے۔
استغاثہ نے کہا ہے کہ کمال کو بھی سزائے موت کا سامنا کرنا چاہیے، یکم جون کو شروع ہونے والے اس مقدمے میں کئی مہینوں کی سماعت ہوئی ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ شیخ حسینہ کے کردار کو بڑے پیمانے پر قتل عام کو روکنے میں ناکامی کے طور پر دیکھا جائے۔
اپنے اور اپنے خاندان کے لیے ان کا مقصد مستقل طور پر اقتدار سے چمٹے رہنا تھا، اس کوشش میں وہ ایک ایسی مجرم بن گئی ہیں جس کو اپنے کیے جانے والے ظلم پر کوئی پچھتاوا بھی نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: سزائے موت کا کا مطالبہ کے لیے
پڑھیں:
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔