مالیاتی ادارے سیلاب کے معیشت پر اثرات بارے نشاندہی کر رہے ہیں‘ خادم حسین
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 اکتوبر2025ء) فائونڈر ز گروپ کے سرگرم رکن ،پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے رکن ، سینئر نائب صدر فیروز پور روڈ بورڈاورسابق ممبر لاہور چیمبر آف کامرس خادم حسین نے کہا ہے کہ سیلاب کے معیشت پر پڑنے والے اثرات آنے والے مہینوں میں سامنے آئیں گے جس کی مرکزی بینک اور عالمی مالیاتی ادارے بھی نشاندہی کر رہے ہیں ،زراعت ،انفرااسٹرکچر کو پہنچنے والے شدید نقصانات سے مالی خسارے اور مہنگائی بھی بڑھے گی جس کی وجہ سے یقینی طور پر گروتھ بھی متاثر ہو گی ۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ غیر جانبدار تجزیہ کرنے والے معاشی ماہرین واضح کہہ رہے ہیں کہ زرعی شعبے اور بنیادی ڈھانچے کو سیلاب سے پہنچنے والے نقصانات مجموعی معاشی منظرنامے کے لیے خطرات پیدا کر رہے ہیں،زرعی اجناس خصوصاً کپاس کی کمی درآمدات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے جس کی وجہ سے خسارہ مزید بڑھے گا ،عالمی معاشی سست روی رواں مالی سال کے دوران برآمدات پر دبا ئوڈالے گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی پالیسیاں بنائے جس سے معیشت دبائو سے نکلے اور اسے تحرک ملے ، اس کے لئے بینکوں کو متحرک کیا جائے کہ وہ مقامی مارکیٹ میں سرمائے کی قلت دور کرنے کیلئے اپنا کردار بڑھائیں ۔ زراعت پر بھرپور توجہ مرکوز کی جائے ، ایسے حالات میں کسان کا ہا تھ تھاما جائے اور اسے تمام زرعی مداخل کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے رہے ہیں
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔