ڈبلیو ایچ او نے عالمی سطح اینٹی بائیوٹکس مزاحمت میں اضافے سے خبردار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او نے اپنی تازہ رپورٹ میں دنیا بھر میں اینٹی بائیوٹکس کے خلاف بڑھتی ہوئی مزاحمت پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اینٹی بائیوٹکس کے بے تحاشا اور غلط استعمال کی وجہ سے ایسے بیکٹیریا پیدا ہو رہے ہیں جو عام دواؤں سے متاثر نہیں ہوتے۔
اس رجحان کو “سپر بگز (Superbugs)” کہا جاتا ہے جو نہ صرف علاج کو مشکل بناتے ہیں بلکہ ہر سال لاکھوں اموات کا سبب بھی بنتے ہیں۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 2050 تک اینٹی بائیوٹک مزاحم انفیکشنز دنیا میں سب سے بڑی موت کی وجہ بن سکتے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او نے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اینٹی بائیوٹکس کے غلط استعمال کو روکیں اور بیکٹیریل انفیکشنز کی نگرانی کو بہتر بنائیں۔
مزید برآں نئی اینٹی بائیوٹکس کی تیاری پر تحقیق میں مشترکہ سرمایہ کاری کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اینٹی بائیوٹکس
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔