نوجوان لڑکی ماں کی ڈانٹ سے دلبرداشتہ ہوکر موبائل ٹاور پر چڑھ گئی
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع مرزا پور میں ماں کی ڈانٹ سے دل برداشتہ ایک نوجوان لڑکی موبائل ٹاور پر چڑھ گئی۔
یہ واقعہ کچوا تھانے کی حدود میں واقع آدرش نگر پنچایت میں پیش آیا۔ کھیتوں میں کام کرنے والے مزدوروں نے جب لڑکی کو اونچے ٹاور پر چڑھا دیکھا تو فوراً شور مچایا اور پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس اہلکار موقع پر پہنچے اور لڑکی کو نیچے اترنے کی کوششیں شروع کیں، تاہم وہ مسلسل انکار کرتی رہی۔
کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد پولیس اور مقامی افراد نے لڑکی کو بحفاظت نیچے اتار لیا۔ پولیس کے مطابق، لڑکی نے ماں کی ڈانٹ پر ناراضی کے باعث یہ خطرناک قدم اٹھایا تھا۔ بعد ازاں پولیس نے اس کی کونسلنگ کی اور اسے والدین کے حوالے کردیا۔
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے جبکہ مقامی آبادی اس افسوسناک واقعے پر حیرت اور تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معمولی جھگڑوں پر اس نوعیت کے اقدامات معاشرتی طور پر نہایت خطرناک رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں
یورپی چیمپئنز لیگ میں پی ایس جی کی کامیابی کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔
یورپی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پی ایس جی کی فتح کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن کا ماحول بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا، جہاں مشتعل افراد نے جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے بوتل بم پھینکے، متعدد دکانوں پر حملے کیے اور سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں سمیت دیگر اشیا کو آگ لگا دی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض شرپسند عناصر نے آتش بازی کا رخ آسمان کے بجائے پولیس اہلکاروں کی جانب کر دیا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
فرانسیسی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے تیزاب سے بھری بوتلیں اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
حکام کو پہلے ہی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر پیرس میں 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔
واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین (PSG) نے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد ہزاروں شائقین جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم بعض مقامات پر یہ جشن بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں