’میں نے آج کمبل دھونے ہیں‘ انتقال کی خبروں پر عشرت فاطمہ کا ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اکتوبر2025ء ) پاکستان کی معروف نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ کے انتقال کی خبروں پر ان کا ردعمل آگیا۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر عشرت فاطمہ کے بارے میں خبر وائرل ہوئی کہ پی ٹی وی کی معروف نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ انتقال کرچکی ہیں، اس پر معروف اینکرپرسن توثیق حیدر نے عشرت فاطمہ کے زندہ ہونے کے بارے میں بتایا اور کہا کہ انہوں نے اس سلسلے میں عشرت فاطمہ کو ویڈیو کال بھی کی تو انہوں نے کہا کہ میں ریڈیو پر ایک پروگرام کر کے گھر آئی ہوں اور میں نے آج کمبل دھونے ہیں۔
اسی حوالے سے عشرت فاطمہ نے ایک بیان بھی جاری کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ آج صبح میں ریڈیوپاکستان سے کرنٹ افیئرز کا ایک پروگرام کرکے گھرواپس پہنچی توبہت فون آرہے تھے جس میں پہلا فون معروف اناؤنسرتوثیق حیدر کا تھا جو میرے چھوٹے بھائیوں اوربیٹوں کی طرح ہیں، انہوں نے مجھے بتایا آپ کے بارے میں سوشل میڈیا پر عجیب عجیب خبریں گردش کررہی ہیں، جس سے میں بہت زیادہ گھبرا گئی کہ اللہ نہ کرے میرے بارے میں کوئی منفی بات نہ ہوگئی ہو۔(جاری ہے)
ان کا کہنا تھا کہ توثیق حیدر نے بتایا آپ کی زندگی کے بارے میں خبریں گردش کررہی ہیں کہ خدانخواستہ آپ اس دنیا میں نہیں رہیں، میں نے اس پرسکون کا سانس لیا کیونکہ میں نے اپنی پوری زندگی میں بہت پھونک پھونک کرقدم رکھا ہے، ہمیشہ کوشش کی ہے کہ کوئی ایسی غلطی نہ کر بیٹھوں جس سے مجھے اپنے والدین، بہن بھائیوں، شوہر اور بچوں کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے، اللہ کا شکر ہے اس نے مجھے محفوظ رکھا، پھربھی انسان غلطی کا پتلا ہے غلطیاں ہوجاتی ہیں لیکن کوشش یہی رہی کہ محتاط زندگی گزاری جائے۔ معروف نیوز کاسٹر کا کہنا ہے کہ میرے لیے تو یہ زندگی اورموت ہے، موت توآنی ہے وہ برحق ہے اور میں تو اس کے انتظار میں ہوں کہ کب بلاوا آجائے کہ واپس آجاؤ، دعا بس یہی ہے کہ اللہ کسی کا محتاج نہ کرے اورآرام دہ موت دے جس میں کوئی تکلیف نہ ہو آسانی ہو، کسی کو بھی پریشانی کا شکار نہ ہونا پڑے لیکن ایک دعا اور خواہش ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے ایک بارحج کا موقع دے اور سب میرے لیے دعاکریں، میں اپنے ابا جی کیلئے حج کرنا چاہتی ہوں، اپنے شوہر ثاقب کے ساتھ جاکر کاش یہ میرے نصیب اور میری زندگی میں لکھا ہو، اس کے بعد اللہ جب مرضی بلالیں کوئی شکایت نہیں، سب میرے لیے دعا کریں، میں بھی سب چاہنے والوں کے لیے دعاکرتی ہوں کہ اللہ تعالی آپ سب کے لیے بہت آسانیاں پیدا کرے۔ یاد رہے کہ عشرت فاطمہ نے اپنے کیرئیر کا آغاز ریڈیو پاکستان کے پروگرام ’کھیل اور کھلاڑی‘ سے کیا، بعد میں وہ موسم کا احوال بتانے لگیں اور پھر خبریں سنانے کا سفر شروع کیا تو انہوں نے 1980ء، 1990ء اور 2000ء کی دہائی میں پی ٹی وی کے رات 9 بجے کے اردو خبرنامے میں خبریں پڑھ کر بے پناہ مقبولیت حاصل کی، 2007ء تک وہ پی ٹی وی سے منسلک رہیں، جس کے بعد انہیں ریڈیو پاکستان میں تعینات کردیا گیا، وہ وائس آف امریکہ سے بھی وابستہ رہی ہیں اور آج کل ریڈیوپاکستان سے حالات حاضرہ کا ایک پروگرام کررہی ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے بارے میں عشرت فاطمہ انہوں نے کہ اللہ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔