کوہلی، روہت ناکام، بھارت کو آسٹریلیا کے ہاتھوں پہلے ون ڈے میں شکست
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
آسٹریلیا نے بارش سے متاثرہ پہلے ون ڈے میں بھارت کو شکست دے دی۔
پرتھ میں کھیلے گئے میچ میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر بھارت کو پہلے بیٹنگ کرنے کی دعوت دی تو بھارتی ٹیم ابتداء سے ہی مشکلات کا شکار رہی۔
بھارت کے ابتدائی تین بلے باز مجموعی طور پر صرف 18 رنز بناسکے جو نیوزی لینڈ کے خلاف 2019 کے ورلڈکپ سیمی فائنل کے بعد کم ترین اسکور ہے۔
The 18 runs between Rohit Sharma, Shubman Gill and Virat Kohli today is the lowest aggregate by India's top three in a men's ODI since the 2019 World Cup semi-final against New Zealand ???? pic.
شبمان گل 10، روہت شرما 8 اور ویرات کوہلی بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے۔
بھارتی اننگز کے دوران دو مرتبہ بارش کے باعث میچ روکنا پڑا جس کے بعد میچ کو 26 اوورز فی اننگز تک محدود کردیا گیا۔
بھارت نے مقررہ 26 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 136 رنز بنائے۔ کے ایل راہول 38 اور اکشر پٹیل 31 رنز بناکر نمایاں رہے۔ نتیش کمار ریڈی 19 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔
آسٹریلیا کی جانب سے جوش ہیزل ووڈ، مچل اوون اور میتھیو کوہنمین نے 2،2 جبکہ مچل اسٹارک اور نیتھن ایلس نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
آسٹریلیا کو ڈی ایل میتھڈ کے تحت 26 اوورز میں 131 رنز کا ہدف ملا جو اس نے باآسانی 3 وکٹوں کے نقصان پر 21.1 اوورز میں حاصل کرلیا۔
Mitch Marsh and Matt Renshaw guided Australia home in a rain-effected match.
More from #AUSvIND: https://t.co/WGd2ni5kLa pic.twitter.com/sBhWerUv0X
کپتان مچل مارش 46 اور میٹ رینشا 21 رنز بناکر ناقابل شکست رہے۔ جوش فلپ 37 جبکہ ٹریوس ہیڈ اور میتھیو شارٹ 8، 8 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔
بھارت کی جانب سے ارشدیپ سنگھ، اکشر پٹیل اور واشنگٹن سندر نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک