پنجاب بھر، خصوصاً لاہور میں سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی اسموگ ایک سنگین ماحولیاتی مسئلہ بن چکی ہے۔ فضائی آلودگی کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر پنجاب حکومت کی جانب سے اسموگ پر قابو پانے کے لیے ایک جامع اور بھرپور گرینڈ آپریشن جاری ہے، جس میں جدید ٹیکنالوجی اور نگرانی کے نظام کو شامل کیا گیا ہے۔

پہلی بار صوبائی تاریخ میں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) کی پیش گوئی کے نظام کے تحت کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں، جبکہ موسمیاتی ڈیٹا سینٹر کے ذریعے اسموگ کے ’ہاٹ اسپاٹس‘ کی بروقت نشاندہی کر کے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: صوبائی حکومت کے اینٹی اسموگ گرینڈ آپریشن کے باوجود لاہور دنیا کا دوسرا آلودہ ترین شہر قرار

آپریشن کے دوران اسموگ کنٹرول کرنے والی مشینری، ایئر کوالٹی مانیٹرز اور اسموگ گنز کا استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ فضائی نگرانی کے لیے ڈرونز بھی استعمال میں لائے جا رہے ہیں۔

پنجاب حکومت نے دیوالی کے دوران فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لئے جامع پلان پر عملدرآمد شروع کر دیا امرتسر، لدھیانہ اور ہریانہ سے آنے والی ہوائیں فضا میں آلودگی لائیں گی، لاہور کا AQI 210 سے 230 تک رہنے کا امکان، آلودہ ہاٹ اسپاٹس پر اینٹی سموگ گنز اور پانی کے چھڑکاؤ کا آپریشن رات سے… pic.

twitter.com/IkqtTdyTkJ

— Marriyum Aurangzeb (@Marriyum_A) October 20, 2025

ماحولیاتی بہتری کے لیے حکومت نے متعدد سخت اقدامات بھی اٹھائے ہیں، جن میں تعمیراتی سرگرمیوں پر پابندی، لکڑی اور کوئلے سے چلنے والے ہوٹلوں کی بندش، اور بھاری گاڑیوں خصوصاً ٹرکوں اور مال بردار ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت پر پابندیاں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور: آلودگی میں کمی کے لیے اسموگ ٹاور کا تجربہ ناکام، مطلوبہ نتائج نہ مل سکے

تاہم، ان تمام اقدامات کے باوجود لاہور ایک مرتبہ پھر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں لاہور کو عالمی سطح پر فضائی آلودگی کے حوالے سے دوسرے نمبر پر قرار دیا گیا ہے، جو کہ شہریوں کی صحت اور ماحولیاتی نظام کے لیے تشویشناک امر ہے۔

صارفین بھی اس پر مختلف تبصرے کرتے نظر آتے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ صوبائی حکومت کے اینٹی اسموگ گرینڈ آپریشن کے باوجود لاہور دنیا کا دوسرا آلودہ ترین شہر قرار دیا گیا ہے۔

صوبائی حکومت کے اینٹی اسموگ گرینڈ آپریشن کے باوجود لاہور دنیا کا دوسرا آلودہ ترین شہر قرار#Lahore #Punjab #Smoj pic.twitter.com/2ICd306mwX

— Real Khattak (@FaizanUmer50457) October 19, 2025

 ثمینہ پاشا نے کہا کہ پنجاب حکومت خود کو خود ہی خراج تحسین پیش کر رہی تھی کہ ہم نے آلودگی کا مسئلہ حل کر لیا۔

کل تو پنجاب حکومت خود کو خود ہی خراج تحسین پیش کر رہی تھی کہ ہم نے آلودگی کا مسئلہ حل کر لیا!???? https://t.co/TpbrZ1sLmP

— Samina Pasha (@pasha_samina) October 19, 2025

شیراز احمد شیرازی کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کے اسموگ اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے تمام دعوے غلط ثابت ہو گئے، پاکستان کے آلودہ ترین 10 شہریوں میں پنجاب کے 7 شہر شامل، فیصل آباد پہلے، لاہور دوسرے نمبر پر آگیا۔

پنجاب حکومت کے سموگ اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے تمام دعوے ٹھس
پاکستان کے آلودہ ترین 10 شہریوں میں پنجاب کے 7 شہر شامل، فیصل آباد پہلے، لاہور دوسرے نمبر پر آگیا pic.twitter.com/acczGCPC3z

— Sheraz Ahmad Sherazi (@Sherazi_Silmian) October 19, 2025

ایک صارف کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت فضائی آلودگی پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔ دعوے تو بہت کیے گئے، مگر عملی اقدامات کہیں دکھائی نہیں دیے۔ لاہور شہر اس وقت دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں دوسرے نمبر پر ہے، جو حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

پنجاب حکومت فضائی آلودگی پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے. دعوے تو بہت کئے گئے، مگر عملی اقدامات کہیں دکھائی نہیں دئے. لاہور شہر اس وقت دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں دوسرے نمبر پر ہے، جو حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے. pic.twitter.com/02Y7vl1bPw

— Hafiz Farhat Abbas (@FarhatAbbas_PTI) October 19, 2025

شفیق نامی صارف نے طنزاً لکھا کہ پنجاب اتنا ستھرا ہوگیا ہے کے لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں آج بھی دوسرے نمبر پے ہے۔

پنجاب اتنا ستھرا ہوگیا ہے کے لاھور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں آج بھی دوسرے نمبر پے ہے۔ https://t.co/NZ1G0mg6TA

— shafiq (@socialistppp) October 9, 2025

اختر رانا نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی اسموگ ختم کرنےکے لیے منگوائی گئی قیمتی مشینری کےکام کرنے سےہہلے لاہور کا ائیرکوالٹی انڈیکس 92 پر تھا، مگر جب سے یہ مشینری لگائی ہےلاہورکی آلودگی کا انڈیکس بڑھ کر207 پرپہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اورمنصوبہ ناکام ہو گیا ہے لاہورکی آلودگی تو کم نہیں ہوئی مگرکروڑوں کاکمیشن ضروربن گیا ہوگا۔

پنجاب حکومت کی سموگ ختم کرنےکیلئے منگوائ گئ قیمتی مشینری کےکام کرنے سےہہلے لاہور کا ائیرکوالٹی انڈیکس 92 پر تھا- مگر جب سے یہ مشینری لگائ ہےلاہورکی آلودگی کا انڈیکس بڑھ کر207 پرپہنچ چکا ہے

ایک اورمنصوبہ ناکام-لاہورکی آلودگی تو کم نہیں ہوئ مگرکروڑوں کاکمیشن ضروربن گیاہوگا ???? pic.twitter.com/c7Bz9sgeIz

— AkhtarRana (@RanaAH22) October 19, 2025

مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ اسموگ کی خوشنمائی سیزن سے پہلے ہی غبارہ پھٹ گیا۔ سوال یہ ہے آیا جو سرمایہ کاری کی گئی وہ مفید ہے کہ نہیں؟ یا ٹیکس پئیر کا پیسہ ضائع ہو گیا ہے۔

اسموگ کی خوشنمائ سیزن سے پہلے ہی غبارہ پھٹ گیا۰ سوال یہ ہے آیا جو سرمایہ کاری کی گئ وہ مفید ہے کہ نہیں؟ یا ٹیکس پئیر کا پیسہ ضائع https://t.co/fuIUkz0W3P

— Muzzammil Aslam (@MuzzammilAslam3) October 19, 2025

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسموگ لاہو میں اسموگ لاہور لاہور آلودہ ترین شہر مریم نواز وزیراعلٰی پنجاب

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسموگ لاہو میں اسموگ لاہور لاہور ا لودہ ترین شہر مریم نواز دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں فضائی آلودگی پر قابو پانے آپریشن کے باوجود لاہور پنجاب حکومت اینٹی اسموگ لاہور دنیا آلودگی کا کہ پنجاب حکومت کے حکومت کی گیا ہے کے لیے

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی