علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر نے کہا کہ ادارہ منہاج الحسین صرف تعلیم کے فروغ کیلئے نہیں بلکہ امام حسین علیہ السلام کے پیغام کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کے مقصد سے قائم کیا گیا۔ اہلِبیت علیہم السلام کی زندگیاں انسانیت کیلئے مشعلِ راہ ہیں، ہم اسوہ اہلبیتؑ پر عمل کرکے اپنے دنیا و آخرت دونوں کو سنوار سکتے ہیں۔ ادارہ منہاج الحسینؑ دینی و دنیاوی دونوں علوم کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ادارہ منہاج الحسینؑ لاہور کے 35 ویں یومِ تاسیس پر پُروقار سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت سرپرستِ اعلیٰ علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر نے کی۔ تقریب میں ڈاکٹر سید حسنات، علامہ محمد سبطین اکبر، رائے ظفر علی، علامہ غلام مصطفیٰ نئیر، علامہ سید حافظ کاظم رضا نقوی اور قاسم علی قاسمی سمیت دیگر نے شرکت کی۔ علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر نے کہا کہ ادارہ منہاج الحسین صرف تعلیم کے فروغ کیلئے نہیں بلکہ امام حسین علیہ السلام کے پیغام کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کے مقصد سے قائم کیا گیا۔
 
انہوں نے کہا کہ اہلِبیت علیہم السلام کی زندگیاں انسانیت کیلئے مشعلِ راہ ہیں، ہم اسوہ اہلبیتؑ پر عمل کرکے اپنے دنیا و آخرت دونوں کو سنوار سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ منہاج الحسینؑ دینی و دنیاوی دونوں علوم کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ منہاج الحسینؑ دینی تعلیم اور ذیلی ادارہ طوسی پبلک سکول دنیا تعلیم میں نمایاں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ علامہ محمد حسین اکبر نے کہا کہ ادارہ منہاج الحسینؑ کے 35 ویں یوم تاسیس کے موقع پر انتظامیہ کی جانب سے تجربہ کار اور ماہرین اساتذہ کی زیرنگرانی نئے پروگراموں کے آغاز کا اعلان کیا گیا۔
 
انہوں نے کہا کہ بچوں میں آٹیزم کے متعلق رہنمائی کے حوالے سے خصوصی تربیتی نشستیں شروع کر رہے ہیں۔ علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر کے مطابق اس میں بول چال سے متعلق مشکلات سے دوچار بچوں کے علاج کیلئے والدین کی موجودگی میں تربیتی پروگرام کا آغاز اور والدین کی رہنمائی اورعلاج کے جدید طریقوں کے استعمال سے آشنائی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے نمبر پر مصنوعی ذہانت کے پروگراموں کا سلسلہ عروج پر ہے، عصر حاضر کے تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے خصوصی تربیتی پروگرام کا آغاز کیا جا رہا ہے تاکہ ابتدائی تربیت اور تعارف تعلیم میں استعمال کے طریقے اور والدین کی  رہنمائی ہو سکے۔
 
انہوں ںے کہا کہ ابتدائے بچپن کے نصاب پر مبنی خوش خطی اور تخلیقی لکھائی کی تربیت کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ قرآن کریم کی پہلی نازل ہونیوالی سورہ اقراء تعلیم کے حصول کی عظمت کو اجاگر کرتی ہے، جبکہ دوسری سورہ والقلم خوش خطی تحریر اور اس کے مختلف اسلوب کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ ان قرآنی احکامات کی روشنی میں 3 سے 5 سال کے بچوں کیلئے ابتدائی نصاب پر مبنی تربیت اور تخلیقی لکھائی کی مشقوں کا آغاز کا اعلان کیا گیا۔ جبکہ طوسی پبلک سکول کے طلبہ و طالبات کو اسناد سے نوازنے کیلئے بھی اس موقع پر خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نے کہا کہ ادارہ منہاج الحسین علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر محمد حسین اکبر نے انہوں نے کہا کہ کا ا غاز کے فروغ کیا گیا رہا ہے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان