سپیشلائزڈ ڈیجیٹل سکلزٹریننگ آف ٹرینرز پروگرام کے ابتدائی مرحلے میں 200 ٹرینرز کو مختلف شعبوں میں آن لائن تربیت دی جائے گی، رانا مشہود احمد خان
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 اکتوبر2025ء) وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے کہ سپیشلائزڈ ڈیجیٹل سکلز ٹریننگ آف ٹرینرز پروگرام کے ابتدائی مرحلے میں 200 ٹرینرز کو آن لائن مصنوعی ذہانت، ای کامرس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ڈیٹا اینالٹکس جیسے جدید شعبوں میں تربیت دی جائے گی۔ وہ پیر کو قومی کمیشن برائے پیشہ ورانہ و تکنیکی تربیت (نیوٹیک)کے ہیڈ کوارٹر میں وزیرِاعظم کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کے تحت ’’سپیشلائزڈ ڈیجیٹل سکلز ٹریننگ آف ٹرینرز ‘‘ پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
رانا مشہود احمد خان نے خطاب میں کہا کہ یہ پروگرام نوجوانوں کو عالمی معیار کی ڈیجیٹل مہارتیں فراہم کرنے کی طرف بڑا قدم ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام نیوٹیک، یونی سروسز انٹرنیشنل اور آئی ٹی ایم سی چائنا کے اشتراک سے شروع کیا گیا ہے جو پاکستان میں ڈیجیٹل سکلز کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں 200 ٹرینرز کو آن لائن تربیت دی جائے گی جنہیں مصنوعی ذہانت، ای کامرس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ڈیٹا اینالٹکس جیسے جدید شعبوں میں سکھایا جائے گا، تربیت مکمل کرنے والوں کو پاکستان اور چین کے معروف اداروں کی مشترکہ اسناد دی جائیں گی۔
رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ ’’پریکٹس آف سکلز‘‘ پلیٹ فارم کے ذریعے پاکستانی نوجوانوں اور فری لانسرز کو مفت ڈیجیٹل لرننگ اکاؤنٹس بھی فراہم کیے جائیں گے جس سے ملک میں ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے نیوای ٹی سی سی اور چینی اداروں کی شراکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پاکستان اور چین کے درمیان ڈیجیٹل تعاون اور انسانی وسائل کی ترقی کو مزید مضبوط کرے گا۔ پروگرام پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت پاکستان کے ٹیوٹ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرے گا۔ تقریب میں یوتھ پروگرام، نیوٹیک ، ٹیوٹ قومی و بین الاقوامی شراکت داروں اور وزارت تعلیم و تربیت کے اعلیٰ ٰحکام نے بھی شرکت کی۔\932.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے رانا مشہود احمد خان ڈیجیٹل سکلز کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔