WE News:
2026-07-24@12:43:25 GMT

چُندا ویلی اسکردو — چٹانوں کا طلسم اور جنت نظیر وادی

اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT

چُندا ویلی اسکردو — چٹانوں کا طلسم اور جنت نظیر وادی

چُندا ویلی (Chunda Valley) سکردو (بلتستان) کی سب سے دلکش وادیوں میں شمار ہوتی ہے۔ سطحِ سمندر سے تقریباً 2600 میٹر بلند یہ وادی برف پوش پہاڑوں، سرسبز چراگاہوں، پھلوں کے باغات اور منفرد چٹانوں کی وجہ سے سیاحوں کے لیے غیر معمولی کشش رکھتی ہے۔

یہاں کا حسن محض فطری مناظر تک محدود نہیں، بلکہ یہ وادی قدیم تاریخ، عجیب و غریب پتھروں اور ماحولیاتی منصوبوں کی وجہ سے بھی ایک زندہ تحقیقی اور سیاحتی تجربہ پیش کرتی ہے۔

وادی تک رسائی

چُندا ویلی تک پہنچنے کے لیے سیاح اسکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے شہر کی سمت بائیں طرف مڑتے ہیں، پھر گمبہ بازار کے بعد دائیں ہاتھ پر CMH جانے والی سڑک پر تقریباً 35 سے 40 منٹ کی مسافت طے کر کے وادی تک پہنچ سکتے ہیں۔

یہ راستہ کچا ہے اور بعض جگہوں پر اتنا تنگ کہ 2 گاڑیوں کا گزر مشکل ہو جاتا ہے۔ تاہم، جیسے ہی مسافر وادی کے دہانے پر پہنچتے ہیں تو  واان سے سیدھے ہاتھ فونگ تھنگ نامی سپاٹ اجالا ہے جاپان سے ایک طرف چندہ گاوں کانظارہ اور دوسری طرف اردگرد کے فلک بوس پہاڑ، شگر ویلی، ایئرپورٹ دریا سندھ  اور اسکردو شہر کا نظارہ سیاحوں کو مسحور کر دیتا ہے۔

چٹانوں کی دنیا  ڈائناسور، گھوڑے اور قدرتی شیلٹرز

چُندا ویلی کی سب سے انوکھی پہچان اس کی چٹانیں ہیں۔ یہ بعض جگہ ڈائناسور یا گھوڑوں جیسی اشکال اختیار کیے ہوئے ہیں، کہیں یہ قدرتی شیلٹرز کا منظر پیش کرتی ہیں اور کہیں ستونوں یا مجسموں کی مانند دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے رنگ سرخی مائل، خاکستری، پیلے اور نیلے ہیں جو ہر زاویے سے ایک نئی کہانی سناتے ہیں۔

ایک سیاح نے تبصرہ کیا: ’میں نے دنیا کے کئی مقامات دیکھے ہیں، مگر ایسی چٹانیں کہیں نہیں دیکھیں۔ یہ یوں لگتی ہیں جیسے فطرت نے خود ایک عجائب گھر بنایا ہو‘۔

ایک مقامی بزرگ کا کہنا ہے: ’یہ پتھر ہمارے لیے صرف خوبصورتی نہیں بلکہ ہماری تاریخ اور کہانیاں ہیں۔ ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ یہاں کے ہر پتھر میں ایک راز چھپا ہے‘۔

قدیم سمندر اور چُندا بطور بندرگاہ

قدیم روایات کے مطابق ہزاروں سال پہلے پورا بلتستان سمندر کے نیچے تھا اور لوگ کشتیوں پر سفر کرتے تھے۔ چُندا اس وقت ایک بڑی بندرگاہ سمجھی جاتی تھی جہاں سے مختلف دیہات تک کشتیاں جاتی تھیں۔

آج بھی وادی میں ایک بڑی چٹان موجود ہے جسے مقامی لوگ ’کشتی باندھنے کی جگہ‘ قرار دیتے ہیں۔ غلام نبی نامی مقامی افسر کے مطابق: ’یہ وہی مقام ہے جہاں لوگ اپنی کشتیاں باندھتے تھے۔ یہ داستان ہمارے بزرگوں سے نسل در نسل منتقل ہوئی ہے‘۔

یہ کہانی اگرچہ سائنسی طور پر مکمل ثابت نہیں ہوئی، مگر وادی کی جاذبیت کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔

جیولوجیکل اہمیت اور سیاحتی امکانات

ماہرین کے مطابق یہ خطہ کبھی قدیم سمندر کا حصہ رہا، جس کا ثبوت یہاں ملنے والے فوسلز اور معدنی ذرات ہیں۔ دنیا میں ’جیولوجیکل ٹورازم‘ تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔

یورپ اور امریکہ میں ایسے مقامات جہاں چٹانوں کے انوکھے ڈھانچے ہوں، لاکھوں سیاح آتے ہیں۔ چُندا ویلی میں بھی یہ صلاحیت موجود ہے کہ یہاں ’چُندا جیولوجیکل پارک‘ قائم کیا جائے، Rock Viewing Points بنائے جائیں اور تربیت یافتہ گائیڈز سیاحوں کو چٹانوں اور فوسلز کی سیر کرائیں۔

 

ماحولیات اور قدرتی آفات سے تحفظ

چُندا ویلی ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے بھی ایک مثال ہے۔ 2011 سے 2014 تک سوئس ڈویلپمنٹ ایجنسی (SDC) اور عالمی ادارہ خوراک (WFP) کے تعاون سے یہاں ایک منصوبہ مکمل کیا گیا۔ اس کے تحت:

50,000 حفاظتی بیریئرز لگائے گئے۔200,000 درخت لگائے گئے۔

مقامی مرد و خواتین کو تربیت دی گئی

اس منصوبے نے نہ صرف زرعی زمین اور پلوں کو محفوظ بنایا بلکہ مقامی بستیوں کو بھی قدرتی آفات سے بچانے میں کردار ادا کیا۔ اس طرح چُندا ایک ’ماڈل پروجیکٹ‘ کے طور پر سامنے آیا جسے ملک کے دیگر حصوں میں بھی اپنایا جا سکتا ہے۔

سماجی و معاشی امکانات

اگر چُندا ویلی کو سیاحتی برانڈ کے طور پر اجاگر کیا جائے تو یہ وادی نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورے پاکستان کی معیشت کے لیے قیمتی سرمایہ بن سکتی ہے۔ مقامی لوگ گائیڈز، ہوٹلرز اور ہنرمند بن کر روزگار حاصل کر سکتے ہیں جبکہ حکومت زرمبادلہ کما سکتی ہے۔

مقامی گائیڈ عبدالرحمان چوپا کے مطابق: ’چُندا ویلی صرف ایک سیاحتی جنت نہیں، بلکہ ہماری تاریخ اور مستقبل دونوں کی ضمانت ہے۔ اگر حکومت تھوڑی سی توجہ دے تو یہ جگہ دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہے‘۔

چُندا ویلی سکردو کی سب سے منفرد اور حیرت انگیز وادی ہے۔ اس کی چٹانیں صرف پتھر نہیں بلکہ قدرتی فن پارے اور قدیم تاریخ کی علامت ہیں۔ یہاں کی روایات، جیولوجیکل شواہد اور ماحولیاتی منصوبے اسے ایک زندہ تجربہ بنا دیتے ہیں۔

اگر  گلگت بلتستان حکومت اور نجی ادارے مل کر اس وادی کو فروغ دیں تو چُندا نہ صرف ایک عالمی سیاحتی مرکز بن سکتا ہے بلکہ مقامی معیشت اور سائنسی تحقیق کے لیے بھی سنگِ میل ثابت ہو گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عبید الرحمان عباسی

مصنف سابق سینئر ایڈیشنل ڈائریکٹر لاء پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور اسلام آباد میں مقیم ایوی ایشن اینڈ انٹرنیشنل لاء کنسلٹنٹ ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: چ ندا ویلی کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم

دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں پروگرام: دین و دنیا
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
مہمان: عالمہ رافعہ منیر
میزبان : مولانا سید تقی زیدی
پیش کار و مدیر: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو: 
کربلا میں عشق کے دو بلند ترین مینار ہیں: ایک سرورِ شہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا جلوہ، اور دوسرا اس آفتابِ عصمت کی تابناکی، جس کا نام حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہے۔ یہیں پر خواتین کا کردار تاریخ کی سب سے درخشاں داستان بن کر ابھرتا ہے۔ بی بی زینبؑ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے بھائی کے لہو کا منظر دیکھا، بلکہ اپنی گفتار اور استقامت سے عاشورہ کی نہضت کو ابدی زندگی عطا کی، یزید کی باطل حکومت کو جوابِ شافی دیا اور اسے اخلاقی شکست کا مزہ چکھایا۔ کربلائی خواتین نے اپنے شوہروں، بھائیوں اور بچوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے امام کی راہ میں سبقت کریں؛ چنانچہ چھوٹے سے چھوٹے طفلِ شیرخوار نے بھی لبِ تشنہ سے قربانی کا یہ پیغام جگا دیا کہ عشقِ حسینی میں کسی کو کسی کی پروا نہیں، بس جلوۂ حق ہے اور اس کی خاطر ہر چیز فدا۔
 
یہ انفرادی جہاد ہی نہیں، بلکہ خواتین کا اجتماعی کردار بھی معاشرے کی تشکیل میں ناقابلِ فراموش حیثیت رکھتا ہے۔ شہیدِ امت، رہبر معظم انقلاب نے بارہا اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ معاشرہ خواتین کے کردار کے بغیر اپنی پختگی اور تکمیل نہیں پا سکتا۔ لہٰذا خواتین کو اپنے ہر شعبۂ زندگی، خاص طور پر علم و تعلیم کے میدان میں کمال حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں جنہیں مرد انجام نہیں دے سکتے، مگر ایک باہوش، باصلاحیت اور تربیت یافتہ عورت انہیں بہترین انداز میں سرانجام دے سکتی ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو کربلا کی درسگاہ سے نکلتی ہے اور ہر دور کی خواتین کو اپنی داخلی قوت کو پہچاننے اور اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔
 

متعلقہ مضامین

  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان برقرار، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
  • سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی
  • عالمی و مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ