چُندا ویلی اسکردو — چٹانوں کا طلسم اور جنت نظیر وادی
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
چُندا ویلی (Chunda Valley) سکردو (بلتستان) کی سب سے دلکش وادیوں میں شمار ہوتی ہے۔ سطحِ سمندر سے تقریباً 2600 میٹر بلند یہ وادی برف پوش پہاڑوں، سرسبز چراگاہوں، پھلوں کے باغات اور منفرد چٹانوں کی وجہ سے سیاحوں کے لیے غیر معمولی کشش رکھتی ہے۔
یہاں کا حسن محض فطری مناظر تک محدود نہیں، بلکہ یہ وادی قدیم تاریخ، عجیب و غریب پتھروں اور ماحولیاتی منصوبوں کی وجہ سے بھی ایک زندہ تحقیقی اور سیاحتی تجربہ پیش کرتی ہے۔
چُندا ویلی تک پہنچنے کے لیے سیاح اسکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے شہر کی سمت بائیں طرف مڑتے ہیں، پھر گمبہ بازار کے بعد دائیں ہاتھ پر CMH جانے والی سڑک پر تقریباً 35 سے 40 منٹ کی مسافت طے کر کے وادی تک پہنچ سکتے ہیں۔
یہ راستہ کچا ہے اور بعض جگہوں پر اتنا تنگ کہ 2 گاڑیوں کا گزر مشکل ہو جاتا ہے۔ تاہم، جیسے ہی مسافر وادی کے دہانے پر پہنچتے ہیں تو واان سے سیدھے ہاتھ فونگ تھنگ نامی سپاٹ اجالا ہے جاپان سے ایک طرف چندہ گاوں کانظارہ اور دوسری طرف اردگرد کے فلک بوس پہاڑ، شگر ویلی، ایئرپورٹ دریا سندھ اور اسکردو شہر کا نظارہ سیاحوں کو مسحور کر دیتا ہے۔
چٹانوں کی دنیا ڈائناسور، گھوڑے اور قدرتی شیلٹرزچُندا ویلی کی سب سے انوکھی پہچان اس کی چٹانیں ہیں۔ یہ بعض جگہ ڈائناسور یا گھوڑوں جیسی اشکال اختیار کیے ہوئے ہیں، کہیں یہ قدرتی شیلٹرز کا منظر پیش کرتی ہیں اور کہیں ستونوں یا مجسموں کی مانند دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے رنگ سرخی مائل، خاکستری، پیلے اور نیلے ہیں جو ہر زاویے سے ایک نئی کہانی سناتے ہیں۔
ایک سیاح نے تبصرہ کیا: ’میں نے دنیا کے کئی مقامات دیکھے ہیں، مگر ایسی چٹانیں کہیں نہیں دیکھیں۔ یہ یوں لگتی ہیں جیسے فطرت نے خود ایک عجائب گھر بنایا ہو‘۔
ایک مقامی بزرگ کا کہنا ہے: ’یہ پتھر ہمارے لیے صرف خوبصورتی نہیں بلکہ ہماری تاریخ اور کہانیاں ہیں۔ ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ یہاں کے ہر پتھر میں ایک راز چھپا ہے‘۔
قدیم روایات کے مطابق ہزاروں سال پہلے پورا بلتستان سمندر کے نیچے تھا اور لوگ کشتیوں پر سفر کرتے تھے۔ چُندا اس وقت ایک بڑی بندرگاہ سمجھی جاتی تھی جہاں سے مختلف دیہات تک کشتیاں جاتی تھیں۔
آج بھی وادی میں ایک بڑی چٹان موجود ہے جسے مقامی لوگ ’کشتی باندھنے کی جگہ‘ قرار دیتے ہیں۔ غلام نبی نامی مقامی افسر کے مطابق: ’یہ وہی مقام ہے جہاں لوگ اپنی کشتیاں باندھتے تھے۔ یہ داستان ہمارے بزرگوں سے نسل در نسل منتقل ہوئی ہے‘۔
یہ کہانی اگرچہ سائنسی طور پر مکمل ثابت نہیں ہوئی، مگر وادی کی جاذبیت کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔
جیولوجیکل اہمیت اور سیاحتی امکاناتماہرین کے مطابق یہ خطہ کبھی قدیم سمندر کا حصہ رہا، جس کا ثبوت یہاں ملنے والے فوسلز اور معدنی ذرات ہیں۔ دنیا میں ’جیولوجیکل ٹورازم‘ تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔
یورپ اور امریکہ میں ایسے مقامات جہاں چٹانوں کے انوکھے ڈھانچے ہوں، لاکھوں سیاح آتے ہیں۔ چُندا ویلی میں بھی یہ صلاحیت موجود ہے کہ یہاں ’چُندا جیولوجیکل پارک‘ قائم کیا جائے، Rock Viewing Points بنائے جائیں اور تربیت یافتہ گائیڈز سیاحوں کو چٹانوں اور فوسلز کی سیر کرائیں۔
ماحولیات اور قدرتی آفات سے تحفظ
چُندا ویلی ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے بھی ایک مثال ہے۔ 2011 سے 2014 تک سوئس ڈویلپمنٹ ایجنسی (SDC) اور عالمی ادارہ خوراک (WFP) کے تعاون سے یہاں ایک منصوبہ مکمل کیا گیا۔ اس کے تحت:
50,000 حفاظتی بیریئرز لگائے گئے۔200,000 درخت لگائے گئے۔
مقامی مرد و خواتین کو تربیت دی گئیاس منصوبے نے نہ صرف زرعی زمین اور پلوں کو محفوظ بنایا بلکہ مقامی بستیوں کو بھی قدرتی آفات سے بچانے میں کردار ادا کیا۔ اس طرح چُندا ایک ’ماڈل پروجیکٹ‘ کے طور پر سامنے آیا جسے ملک کے دیگر حصوں میں بھی اپنایا جا سکتا ہے۔
اگر چُندا ویلی کو سیاحتی برانڈ کے طور پر اجاگر کیا جائے تو یہ وادی نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورے پاکستان کی معیشت کے لیے قیمتی سرمایہ بن سکتی ہے۔ مقامی لوگ گائیڈز، ہوٹلرز اور ہنرمند بن کر روزگار حاصل کر سکتے ہیں جبکہ حکومت زرمبادلہ کما سکتی ہے۔
مقامی گائیڈ عبدالرحمان چوپا کے مطابق: ’چُندا ویلی صرف ایک سیاحتی جنت نہیں، بلکہ ہماری تاریخ اور مستقبل دونوں کی ضمانت ہے۔ اگر حکومت تھوڑی سی توجہ دے تو یہ جگہ دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہے‘۔
چُندا ویلی سکردو کی سب سے منفرد اور حیرت انگیز وادی ہے۔ اس کی چٹانیں صرف پتھر نہیں بلکہ قدرتی فن پارے اور قدیم تاریخ کی علامت ہیں۔ یہاں کی روایات، جیولوجیکل شواہد اور ماحولیاتی منصوبے اسے ایک زندہ تجربہ بنا دیتے ہیں۔
اگر گلگت بلتستان حکومت اور نجی ادارے مل کر اس وادی کو فروغ دیں تو چُندا نہ صرف ایک عالمی سیاحتی مرکز بن سکتا ہے بلکہ مقامی معیشت اور سائنسی تحقیق کے لیے بھی سنگِ میل ثابت ہو گا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مصنف سابق سینئر ایڈیشنل ڈائریکٹر لاء پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور اسلام آباد میں مقیم ایوی ایشن اینڈ انٹرنیشنل لاء کنسلٹنٹ ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چ ندا ویلی کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔