آزاد کشمیر حکومت کا مستقبل کیا ہوگا؟ بڑی خبر آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت کے مستقبل کو لے کر اہم سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پیپلز پارٹی اس حکومت سے علیحدگی اختیار کرے گی یا کوئی اور راستہ اپنایا جائے گا، اس بارے میں حتمی فیصلہ رواں ہفتے متوقع ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق، پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے صدر مملکت آصف علی زرداری کو آزاد کشمیر حکومت سے متعلق فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منظوری کے بعد آصف زرداری پی پی آزاد کشمیر پارلیمانی پارٹی سے مشاورت کریں گے اور جلد ہی صدر مملکت سے ملاقات کا امکان ہے۔
ملاقات اور مشاورت کے بعد ہی آزاد کشمیر حکومت کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی کی آزاد کشمیر پارلیمانی پارٹی نے حکومت سے علیحدگی کی سفارش کی ہے اور اس حوالے سے آصف زرداری اور فریال تالپور سے ملاقاتیں بھی ہو چکی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ صدر مملکت اس معاملے میں ان ہاؤس تبدیلی کی منظوری دے سکتے ہیں۔
سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں ممبران نے کہا کہ پیپلز پارٹی ماضی میں بھی آزاد کشمیر میں حکومت بنا سکتی تھی، مگر انہیں موقع نہیں دیا گیا۔ اگر اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت ہوتی تو آزاد کشمیر کے حالات بہتر ہوتے۔
واضح رہے کہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کی مخلوط حکومت قائم ہے، جس میں وزیراعظم کا عہدہ ن لیگ کے چوہدری انوار الحق کے پاس ہے۔ اس حکومت کے دوران کئی بار پرتشدد مظاہرے بھی ہوئے ہیں، جو سیاسی عدم استحکام کی علامت ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز