برطانوی شہزادہ اینڈریو سے کس سنگین الزامات کے بعد شاہی خطاب اور عہدے واپس لیے گئے؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
برطانوی شہزادہ اینڈریو نے امریکی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات سامنے آنے اور الزامات لگنے کے بعد اپنا شاہی لقب ’ڈیوک آف یارک‘ چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔
یہ فیصلہ اپریل میں خودکشی کرنے والی ایک خاتون ورجینیا جیفری کی شائع ہونے والی یادداشتوں سے پہلے کیا گیا، جنہوں نے شہزادہ اینڈریو پر جیفری ایپسٹین کی معاونت سے کم عمری میں ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کا الزام لگایا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: شاہی خاندان کا غیر متوقع اعلان، بالمورل کیسل عوام کے لیے بند
برطانوی شاہی محل کے مطابق شہزادہ اینڈریو اب ’ڈیوک آف یارک‘ کے لقب کے ساتھ ’سرکاری فرائض‘ انجام نہیں دیں گے اور نائٹ آف دی گارٹر سمیت تمام اعزازی القابات غیر فعال ہو جائیں گے۔ وہ آئندہ ’ہز رائل ہائنس‘ کا خطاب بھی استعمال نہیں کریں گے۔
شہزادہ اینڈریو نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اپنی فیملی اور ملک کے مفاد کو مقدم رکھتے ہیں اور 5 سال قبل عوامی زندگی سے الگ ہونے کے فیصلے پر قائم ہیں۔ انہوں نے الزامات کی ایک بار پھر سختی سے تردید کی۔
ایپسٹین کے ساتھ تعلقات کے باعث اینڈریو کو 2022 میں شاہی ذمہ داریوں اور فوجی عہدوں سے برطرف کیا گیا تھا۔ انہوں نے امریکی عدالت میں جیفری کے ساتھ مقدمہ تصفیے کے ذریعے ختم کیا تھا اور 1.
یہ بھی پڑھیے: میگھن مارکل کے انٹرویو کے بعد شاہی خاندان کا جذباتی بیان جاری
ورجینیا جیفری کی یادداشت ’نوبوڈیز گرل‘ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شہزادہ اینڈریو اس تعلق کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے تھے۔ جیفری کے اہلِ خانہ نے اینڈریو کے القابات چھوڑنے کے فیصلے کو ورجینیا کی فتح قرار دیا ہے۔
شہزادہ اینڈریو اب بھی شاہی خاندان کے رکن ضرور ہیں مگر ان کا واحد سرکاری خطاب صرف ’پرنس‘ رہ جائے گا۔ وہ بدستور ونڈسر کے رائل لاج میں رہائش پذیر ہیں، مگر اب مکمل طور پر نجی زندگی گزار رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
برطانوی شاہی خاندان پرنس انڈریو جنسی اسکینڈل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برطانوی شاہی خاندان پرنس انڈریو جنسی اسکینڈل شہزادہ اینڈریو شاہی خاندان کے ساتھ
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔