نئی دہلی دنیاکا آلودہ ترین شہر بن گیا، لاہور کی فضا بھی انتہائی مضر صحت قرار
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ شہروں میں پہلے نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ دیوالی کے موقع پر ہونے والی آتش بازی کے باعث شہر میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی، جس سے ائیر کوالٹی انڈیکس 772 تک جا پہنچا۔
رپورٹس کے مطابق بھارت میں دیوالی کی تقریبات کے اثرات سرحد پار پاکستان تک بھی پہنچے ہیں، اور لاہور سمیت مشرقی شہروں کی فضا آلودہ ہونا شروع ہوگئی ہے۔ آج دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں لاہور دوسرے نمبر پر ہے، جہاں علی الصبح ائیر کوالٹی انڈیکس 245 ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق لاہور میں اوسط اے کیو آئی 210 سے 240 کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک سطح تصور کی جاتی ہے۔
ماحولیاتی ماہرین نے بتایا کہ نئی دہلی کی آلودگی کے باعث آج لاہور اور اس کے اطراف کے علاقوں میں دھند اور اسموگ کی شدت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ دھرمشالہ سے پانچ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوائیں گوجرانوالہ، لاہور اور فیصل آباد کی طرف بڑھ رہی ہیں، جو آلودگی کو مزید پھیلا سکتی ہیں۔
پنجاب حکومت کے مطابق تمام متعلقہ ادارے متحرک ہیں اور اسموگ سے متاثرہ علاقوں میں اینٹی اسموگ گنز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گھروں سے نکلتے وقت ماسک پہنیں اور احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔
ادارہ برائے ماحولیاتی تحفظ پاکستان کے مطابق ائیر کوالٹی انڈیکس اگر 0 سے 100 کے درمیان ہو تو اسے محفوظ سمجھا جاتا ہے، 101 سے 200 درمیانی آلودگی، 300 سے 500 انتہائی آلودہ، جبکہ 500 سے اوپر کی سطح انسانی صحت کے لیے شدید نقصان دہ مانی جاتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔