امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ واشنگٹن نے غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت حماس کے غیر مسلح ہونے کے لیے کوئی آخری تاریخ مقرر نہیں کی۔

جنوبی اسرائیل میں جنگ بندی کی نگرانی کرنے والے امریکی مشن کے تحت ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہاکہ ہم جانتے ہیں کہ حماس کو معاہدے پر عمل کرنا ہوگا، اور اگر وہ عمل نہیں کرتی تو نتائج بہت سنگین ہوں گے۔ تاہم میں اس کے لیے کوئی ڈیڈلائن نہیں دوں گا۔

یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کا حماس کو ’تیز، شدید اور بے رحم‘ کارروائی کا انتباہ 

جے ڈی وینس منگل کے روز اسرائیل پہنچے تاکہ غزہ میں جنگ بندی کے پہلے نازک مرحلے کو مستحکم کرنے اور آئندہ مذاکرات میں اسرائیل اور حماس دونوں کو مشکل رعایتوں پر آمادہ کرنے کے لیے امریکی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔

جنگ بندی کو طے پائے ہوئے 8 دن گزر چکے ہیں، لیکن دونوں فریق ایک دوسرے پر اس کی بار بار خلاف ورزیوں کا الزام لگا رہے ہیں۔ تنازعات یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی، امداد کی ترسیل اور سرحدی راستے کھولنے کی رفتار پر مرکوز ہیں۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی جنگ بندی منصوبے پر عملدرآمد کے لیے مزید سخت اقدامات درکار ہوں گے جن پر ابھی فریقین نے مکمل اتفاق نہیں کیا۔ ان میں حماس کا غیر مسلح ہونا اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اقدامات شامل ہیں۔

جے ڈی وینس کا یہ دورہ اُس وقت ہوا جب ایک روز قبل اسرائیلی وزیراعظم بیامین نیتن یاہو نے امریکی ایلچی اسٹیون وٹکوف اور جیرڈ کُشنر (ٹرمپ کے داماد) سے ملاقات کی۔ نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ جے ڈی وینس کے ساتھ علاقائی چیلنجز اور مواقع پر تبادلہ خیال کریں گے۔

قاہرہ میں حماس کے مذاکرات جن کی قیادت جلاوطن رہنما خلیل الحیہ کررہے ہیں، موجودہ جنگ بندی کو مستحکم کرنے، غزہ کی جنگ کے بعد کے انتظامات اور آئندہ مرحلے کے امکانات پر مرکوز ہیں۔

ٹرمپ کے منصوبے میں ایک ٹیکنوکریٹک فلسطینی کمیٹی کے قیام کی تجویز شامل ہے جو ایک بین الاقوامی بورڈ کی نگرانی میں غزہ کا انتظام سنبھالے گی، جس میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔

ایک فلسطینی اہلکار کے مطابق حماس نے ایسی کمیٹی کے قیام کی حمایت کی ہے جو غزہ کے معاملات کو اس کی رضامندی سے چلائے، تاہم اس میں اس کے نمائندے شامل نہیں ہوں گے، جبکہ فلسطینی اتھارٹی اور دیگر دھڑوں کی بھی شمولیت ہوگی۔

یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی اور امدادی ترسیل کے بارے میں گزشتہ روز خلیل الحیہ نے کہا تھا کہ حماس جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر مکمل عمل درآمد کرے گی، جس میں مزید یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حماس نے ایک اور یرغمالی کی لاش اسرائیل کے حوالے کردی، غزہ میں امدادی سامان کے داخلے کا مطالبہ

انہوں نے کہاکہ یرغمالیوں کی لاشیں ان کے اہل خانہ کو واپس کی جائیں، اور ہمارے شہدا کی لاشیں بھی عزت و احترام کے ساتھ تدفین کے لیے واپس دی جائیں۔

منگل کے روز فلسطینی اور اقوامِ متحدہ کے حکام نے بتایا کہ زیادہ امداد دو اسرائیلی چیک پوائنٹس کے ذریعے غزہ میں داخل ہو رہی ہے، تاہم امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ مصیبت زدہ عوام کے لیے یہ امداد ناکافی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسرائیل حماس جنگ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس حماس ڈیڈلائن غیرمسلح فلسطینی مزاحمتی تنظیم وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل حماس جنگ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ڈیڈلائن فلسطینی مزاحمتی تنظیم وی نیوز یرغمالیوں کی جے ڈی وینس کے لیے

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کردیا گیا
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران