دپیکا اور رنویر سنگھ نے پہلی بار بیٹی ’دعا‘ کی جھلک دکھا دی
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
بالی وُوڈ کی مقبول ترین جوڑی دپیکا پاڈوکون اور رنویر سنگھ اس دیوالی پر اپنی ننھی پری کو دنیا کے سامنے لے آئے جس کا چہرہ اب تک کسی نے نہیں دیکھا تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ دیوالی بالی ووڈ جوڑی رنویر سنگھ اور دپیکا کے لیے کچھ خاص بات لیے ہوئی تھی۔
انھوں نے ممبئی میں اپنے گھر پر قریبی دوستوں اور اہلِ خانہ کے ساتھ دیوالی منائی۔ اس موقع پر صحافیوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔
دپیکا اور رنوریر رواں برس جولائی میں ایک خوبصورت بیٹی کے ماں باپ بنے تھے جس کا نام دعا رکھا تھا تاہم اب تک کسی نے میڈیا پر بچی کی ایک جھلک بھی نہیں دیکھی تھی۔
اپنی بیٹی کو میڈیا کے سامنے لانے کے لیے دپیکا اور رنویر نے دیوالی کے موقع کا انتخاب کیا اور پہلی بار میڈیا کو بیٹی کی جھلک دکھائی۔
دونوں نے میڈیا کے سامنے بیٹی کے ساتھ تصاویر کھینچوائیں اور ویڈیوز بھی بنائیں اور پھر انھیں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ بھی کیا۔
اس طرح دپیکا اور رنویر نے اس دیوالی کو اپنی زندگی کی سب سے بہترین اور یادگار دیوالی بنالیا۔
دپیکا سرخ ساڑھی میں نہایت دلکش اور رنویر سفید شیروانی میں خوب جچ رہے تھے جبکہ ان کی بیٹی نے بھی سرخ رنگ کا روایتی لباس پہنا ہوا تھا۔
یاد رہے کہ جوڑے کی شادی 14 نومبر 2018 کو اطالوی علاقے Lake Como میں ہوئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اور رنویر دپیکا اور
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔