ٹرمپ‘ پیوٹن سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں‘ یوکرینی صدر
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کیف: یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ اگر انہیں دعوت دی گئی تو وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے ہنگری میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کے لیے تیار ہیں۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اجلاس کے مقام کے انتخاب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہنگری اور یوکرین کے مابین تعلقات کشیدہ ہیں اور یورپی یونین کے اندر ہنگری کی حکومت ماسکو کی سب سے ہمدرد حکومت سمجھی جاتی ہے۔ مذکورہ حوالے سے انہوں نے ہنگری کے وزیرِاعظم وکٹر اوربان سے متعلق کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ ایک ایسا وزیر ِاعظم جو ہر موقع پر یوکرین کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے، یوکرینی عوام کے لیے کچھ مثبت کر سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔