Islam Times:
2026-07-24@07:30:38 GMT

دل دہلا دینے والے واقعات کی ایک جھلک

اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT

دل دہلا دینے والے واقعات کی ایک جھلک

اسلام ٹائمز: شہداء کی لاشوں کی بازیابی کیلئے قومی مہم کا تخمینہ ہے کہ قبرستانوں میں دفن لاشوں کی تعداد 735 ہے، جن میں سے 99 فیصد کا تعلق غزہ سے ہے۔ اسکے برعکس صہیونی اخبار Haaretz کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل کے پاس حماس کے 1500 جنگجوؤں کی لاشیں موجود ہیں۔ یہ رپورٹ اسرائیلی حراستی مراکز میں جو کچھ ہو رہا ہے اور فلسطینی قیدیوں کیساتھ جو کچھ ہوا، اسکی تلخ حقیقت کا صرف ایک معمولی حصہ ہے۔ ہر واپس شدہ لاش ایک درد بھری داستان ہے، ہر زندہ بچ جانے والا فلسطینی قیدی ایک غمناک کہانی ہے اور ہر طبی دستاویز اس انسانی المیے کی گواہی ہے، جو عالمی برادری کی خاموشی میں جاری ہے۔ ترتیب و تنظیم: علی واحدی

صیہونی حکومت اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے تحت قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے نتیجے میں تقریباً 1700 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے۔ ان لاشوں نے اسرائیلی حراستی مراکز میں رونماء ہونے والے انسانی المیے سے پردہ اٹھایا ہے۔ فیلڈ شواہد، زندہ بچ جانے والوں کے انکشافات اور فرانزک دستاویزات پر مبنی رپورٹ میں منظم تشدد، ماورائے عدالت پھانسیوں اور بین الاقوامی قانون کی منظم خلاف ورزیوں کی خوفناک تصویر پیش کی گئی ہے۔ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے مطابق صیہونی حکومت نے ہر اسرائیلی قیدی کے بدلے 15 فلسطینیوں کی لاشیں واپس کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں تین مرحلوں میں 120 فلسطینیوں کی لاشیں واپس بھیجی گئیں۔ تاہم فلسطین کے محکمہ صحت کے کارکنوں کو لاشوں کو دیکھ کر انہیں لاشوں کی بے حرمتی اور بدسلوکی کے ناقابل بیان مناظر کا سامنا کرنا پڑا۔

ریڈ کراس کی گاڑیاں جیسے ہی ناصر ہسپتال پہنچیں، ڈاکٹر اسرائیلی فوج کی طرف سے بھیجی گئی لاشوں کا معائنہ کرنے پہنچ گئے۔ فرانزک ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر احمد ظاہر پہلی لاش دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ابتدائی جانچ سے معلوم ہوا کہ لاش کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی، اس کے گلے میں رسی تھی اور ہاتھ رسی سے بندھے ہوئے تھے۔ سینے میں اور پیٹ میں چھرا گھونپنے کا زخم بھی تھا۔ ڈاکٹر ظاہر نے کہا: "اسے پھانسی دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے لاش پر وحشیانہ تشدد کے نشانات دیکھے ہیں۔ پوسٹ مارٹم سے پتہ چلا کہ لاش کے سوراخوں کو روئی سے بھرا گیا تھا اور اس کی آنکھ کا قرنیہ، گردہ اور جگر نکال دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر ظاہر نے کہا: "یہ خوفناک جرائم ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسا کچھ نہیں دیکھا اور مجھے نہیں لگتا کہ میں دوبارہ کبھی ایسی ہولناک خلاف ورزیوں کا مشاہدہ کروں گا۔"

غزہ کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البراش نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر کہا ہے: "سرکاری تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ مقتولین کو پھانسی سے پہلے ہی حراست میں رکھا گیا تھا۔ ہم نے غزہ پر پیش قدمی کے دوران اسرائیلی فوجیوں کی طرف سے کیے گئے وحشیانہ جرائم کو دستاویزی شکل دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا "لاشوں پر موجود علامات بتاتی ہیں کہ متاثرین کو پھانسی سے پہلے حراست میں لیا گیا تھا۔ ہم نے تشدد اور بدسلوکی کے آثار دیکھے۔ یہ ایسے جرائم ہیں، جو جنگی جرائم کے مترادف ہیں۔ انہوں نے قرنیہ، گردے اور جگر جیسے اعضاء چرائے ہیں۔" البرش نے اس بات پر زور دیا کہ یہ جرائم چھپے نہیں رہ سکتے۔ ان  لاشوں کو اسرائیلی سردخانوں میں مہینوں تک رکھا گیا اور دفنایا نہیں گیا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی کونسل سے فوری تحقیقات شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا یہ ثابت کرنے کے لیے کافی شواہد موجود ہیں کہ تل ابیب نے انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے، جس کی جدید تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

لاشوں کی شناخت
غزہ میں صرف چار فرانزک ٹیمیں جنگ کے متاثرین کی تمام لاشوں اور وطن واپس بھیجی جانے والی لاشوں کا معائنہ کرنے کی ذمہ دار ہیں۔ ان حالات میں ناموں کے بجائے واپس بھیجی جانے والی لاشوں پر نمبر لگا دیئے گئے ہیں۔ غزہ میں شناخت کے جدید آلات کی کمی نے کام کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ 120 لاشوں میں سے صرف چار کی شناخت اہل خانہ کی مدد سے ہوسکی ہے۔ شناختی کمیٹی کے ایک رکن سمیح حماد نے کہا کہ درجنوں لاشیں ناقابل شناخت ہیں۔ اسرائیل نے لاشیں بغیر شناخت کے حوالے کر دی ہیں، جبکہ غزہ کے ہسپتال جنگ سے تباہ ہوچکے ہیں اور ڈی این اے ٹیسٹ کرنے کے ذرائع نہیں ہیں۔ حماد نے مزید کہا کہ "اسرائیلی حکام کو ان لاشوں کی شناخت کا علم ہے، لیکن وہ لواحقین کے دکھ میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔"

شہداء کی لاشوں کی بازیابی کے لیے قومی مہم کا تخمینہ ہے کہ قبرستانوں میں دفن لاشوں کی تعداد 735 ہے، جن میں سے 99 فیصد کا تعلق غزہ سے ہے۔ اس کے برعکس صہیونی اخبار Haaretz کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل کے پاس حماس کے 1500 جنگجوؤں کی لاشیں موجود ہیں۔ یہ رپورٹ اسرائیلی حراستی مراکز میں جو کچھ ہو رہا ہے اور فلسطینی قیدیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس کی تلخ حقیقت کا صرف ایک  معمولی حصہ ہے۔ ہر واپس شدہ لاش ایک درد بھری داستان ہے، ہر زندہ بچ جانے والا فلسطینی قیدی ایک غمناک کہانی ہے اور ہر طبی دستاویز اس انسانی المیے کی گواہی ہے، جو عالمی برادری کی خاموشی میں جاری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: لاشوں کی کی لاشیں گیا تھا ہے اور جو کچھ

پڑھیں:

جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا

جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔

یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟

جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔

کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟

یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔

‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news انسانی فریج جاپان گرمی

متعلقہ مضامین

  • وزیراعظم کا لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دینے، کمانڈر نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم