حکومت سندھ جرائم کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرے‘ کاشف شیخ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251202-08-24
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ نے کہا ہے کہ سندھ میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور اغوابرائے تاوان کی کارروائیوں اور بدترین مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے، سندھ کے شہری علاقوں میں اسٹریٹ کرائم ،موٹرسائیکل اور نقدی وموبائل چھیننے کے واقعات میں مزاحمت کرنے پر نوجوانوں کو قتل کرنے ،معصوم بچوں کا گٹروں میں ڈوب کر جاںبحق ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے شہری شدید خوف وہراس اور عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ سندھ کے دیہی علاقوں میں اغوابرائے تاوان کے بڑھتے ہوئے واقعات اور قبائلی تصادم میں سیکڑوں انسانی جانوں کے نقصان نے عوام کو پریشان اور غیرمحفوظ کردیا ہے خصوصاً ضلع کشمور اس وقت اغوابرائے تاوان کا مرکز بنا ہوا ہے وہاں سے عام لوگوں کے علاوہ معصوم بچے بھی اغوا کیے گئے ہیں ،ضلع کشمور میں بدامنی کے خلاف جماعت اسلامی کی جدوجہد قابل ستائش ہے مگر ضلعی انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے ،آئے روز بدامنی اور قبائلی تنازعات کی خبریں تشویش ناک ہیں۔انہوں نے ایک بیان میں مزید کہا کہ سندھ پر قابض حکمران ٹولہ امن امان کے قیام، عوام کو بنیادی انسانی سہولیات دینے کے بجائے تیل،گیس اور کوئلے سے مالا مال سندھ کے وسائل کی بندر بانٹ ،زمینوں کو کارپوریٹ فارمنگ کی نام پر نیلام اور سندھ کے قدیم اثاثے کارونجھر پہاڑ کی کٹائی کرکے کھرب پتی بن چکے ہیں مگر عوام 2قت کی روٹی علاج معالجے اور تعلیم سے بھی محروم کردیے گئے ہیں،وزیراعلیٰ سندھ عوام سے معافی مانگنے کے بجائے کارونجھر پہاڑ کو بیچنے پر مضر ہیں جو کہ ان کی بے شرمی کی انتہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں میں اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوا ہے اور دیہی علاقوں میں اغوا برائے تاوان اور قبائلی فساد میں بھی اضافہ تشویش ناک ہے ، سوال یہ ہے کہ سندھ میں قیام امن کے لیے رینجرز، پولیس اور دیگر خفیہ اداروں کے باوجود بدامنی میں دن بدن اضافہ کیوں ہورہا ہے؟۔عوام کے جان ومال کا تحفظ سندھ حکومت کا اولین فرض ہے اور امن کے بغیر ترقی ناممکن ہے اس لیے قیام امن کے لیے خصوصی اور مؤثر اقدامات کیے جائیں اور عوام کے جان ومال کی تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علاقوں میں سندھ کے کہ سندھ
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔