وزیراعظم ہاؤس میں پہلی بار ’’دیوالی‘‘ کی خصوصی تقریب
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
شہباز شریف کی سربراہی میں وزیراعظم ہاؤس میں پہلی بار ہندو برادری کے لیے دیوالی کی خصوصی تقریب منعقد کی گئی، جس میں وزیراعظم نے ذاتی طور پر برادری کے افراد کے ہمراہ کیک کاٹا۔
یہ تقریب پاکستان میں مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے عزم کی علامت بنی ہے۔ وزیراعظم نے تقریب میں کہا کہ پاکستان میں تمام شہریوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے اور اقلیتی برادری نے قیامِ پاکستان سے اب تک ترقی اور تعمیر کے ہر شعبے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
دیوالی خوشی، امن اور رواداری کا پیغام ہے، اور ہمیں اس پیغام کو پورے عزم کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔” انھوں نے کہا کہ ن لیگ سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتوں میں اقلیتی نمائندگی موجود ہے، اور حکومت نے اقلیتی برادریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قومی اقلیتی کمیشن کو مزید فعال بنانے کی منظوری دی ہے۔
علاوہ ازیں، وزیراعظم نے بتایا کہ یوتھ پروگرام کے تحت بھی اقلیتی نوجوانوں کو مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، اور بجٹ میں اقلیتوں کے لیے خصوصی حصہ مختص کیا گیا ہے۔ وہ کہے: “ہمیں پاکستان کی اقلیتی برادری پر فخر ہے اور ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔”
یہ تقریب اس لحاظ سے تاریخی ہے کہ اسے وزیراعظم ہاؤس میں برائےِ اولین مرتبہ منعقد کیا گیا، اور اس نے پاکستان میں بین المذاہب امن و شہری مساوات کا امید بخش پیغام دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔