وزیراعظم ہاؤس میں پہلی بار ’’دیوالی‘‘ کی خصوصی تقریب
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
شہباز شریف کی سربراہی میں وزیراعظم ہاؤس میں پہلی بار ہندو برادری کے لیے دیوالی کی خصوصی تقریب منعقد کی گئی، جس میں وزیراعظم نے ذاتی طور پر برادری کے افراد کے ہمراہ کیک کاٹا۔
یہ تقریب پاکستان میں مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے عزم کی علامت بنی ہے۔ وزیراعظم نے تقریب میں کہا کہ پاکستان میں تمام شہریوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے اور اقلیتی برادری نے قیامِ پاکستان سے اب تک ترقی اور تعمیر کے ہر شعبے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
دیوالی خوشی، امن اور رواداری کا پیغام ہے، اور ہمیں اس پیغام کو پورے عزم کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔” انھوں نے کہا کہ ن لیگ سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتوں میں اقلیتی نمائندگی موجود ہے، اور حکومت نے اقلیتی برادریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قومی اقلیتی کمیشن کو مزید فعال بنانے کی منظوری دی ہے۔
علاوہ ازیں، وزیراعظم نے بتایا کہ یوتھ پروگرام کے تحت بھی اقلیتی نوجوانوں کو مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، اور بجٹ میں اقلیتوں کے لیے خصوصی حصہ مختص کیا گیا ہے۔ وہ کہے: “ہمیں پاکستان کی اقلیتی برادری پر فخر ہے اور ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔”
یہ تقریب اس لحاظ سے تاریخی ہے کہ اسے وزیراعظم ہاؤس میں برائےِ اولین مرتبہ منعقد کیا گیا، اور اس نے پاکستان میں بین المذاہب امن و شہری مساوات کا امید بخش پیغام دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔