غزہ؛ حماس کے اسرائیلی فوج پر حملے میں 2 اہلکار ہلاک اور 3 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
غزہ کے شہر رفح میں حماس اور اسرائیلی فوج کے دوران جھڑپ کا واقعہ پیش آیا ہے جس کے لیے دونوں نے ایک دوسرے کو جنگ بندی کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے جن دو اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی، ان کی شناخت کمانڈگ آفیسر 26 سالہ میجر یانیو کولو اور اسٹاف سارجنٹ 21 سالہ اِتائے یاویٹس کے نام سے ہوئی ہے۔
مارے گئے دونوں فوجیوں کا تعلق نہال بریگیڈ کی 932ویں بٹالین سے تھا۔ حماس نے یہ حملہ رفح کے جنوب مشرقی علاقے میں اُس وقت کیا جب اسرائیلی فوج حماس کی سرنگوں اور انفراسٹرکچر کے ملبے کو اُٹھا رہی تھی۔
اس دوران حماس کے جنگجو ایک سرنگ سے اچانک نمودار ہوئے اور راکٹ حملہ سے ایک ایکسکیویٹر کو نشانہ بنایا اس حملے میں دو اہلکار موقع پر ہلاک ہو گئے جب کہ اسنائپر کی فائرنگ میں مزید 3 اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے۔
زخمی ہونے والے اسرائیلی فوجیوں میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسرائیل نے اس واقعے کو غزہ جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی قرار دیا جب کہ حماس کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ اسرائیلی کنٹرول میں تھا اور وہاں ان کے جنگجو متحرک نہیں تھے۔
ادھر حماس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مزید ایک اسرائیلی یرغمالی کی لاش دریافت کی ہے، اور مناسب وقت میں اسے حوالے کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
یاد رہے کہ اب بھی 16 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں غزہ میں کسی نہ کسی ملبے کے ڈھیر میں دبی ہیں جن کی برآمدگی کے لیے آپریشن جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن