Islam Times:
2026-06-03@05:47:22 GMT

غزہ جنگ کا نیا کمانڈر

اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT

غزہ جنگ کا نیا کمانڈر

اسلام ٹائمز: شرم الشیخ اجلاس کے حوالے سے حماس کا موقف انتہائی سیاسی پختگی پر مبنی ہے، یوں معلوم ہوتا ہے کہ شائد حماس کی قیادت دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہوکر ٹھوس حکمت عملی کیساتھ آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ یقینی طور پر امریکہ کا نیا منصوبہ نیتن یاہو کا بھی حمایت یافتہ ہے۔ جو اس جانب اشارہ ہے کہ ہم تو حماس کو ختم نہیں کرسکے، تم آو اور ہماری مدد کرو۔ اگر یوں کہا جائے کہ غزہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی تو غلط نہ ہوگا، بلکہ اس کی کمانڈ اسرائیل کی بجائے واشنگٹن نے سنبھال لی ہے۔ رپورٹ: سید عدیل عباس

شرم الشیخ اجلاس میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پانے کے باوجود یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ غزہ میں امن کا قیام ابھی دور ہے، کبھی صیہونی عہدیداروں کی جانب سے حماس کو لیکر دی جانے والی دھمکیاں، علاقہ میں غیر ملکی فوجوں کی آمد اور امریکہ کی پراسرار سرگرمیاں سنجیدہ حلقوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہیں کہ اسرائیل اور واشنگٹن کا منصوبہ کچھ اور ہی ہے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے مقبوضہ سرزمینوں میں فوجی اڈہ قائم کرکے دراصل غزہ اور اسرائیل میں ہونے والی پیشرفت کی زمینی سطح پر کمان سنبھال لی ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے کریات گات میں اپنے فوجی اڈہ قائم کرنے کا مقصد یہی نظر آرہا ہے کہ ٹرمپ کا منصوبہ اب شائد غیر ملکی فوجوں کے ذریعے آگے بڑھایا جا سکے۔ یہ اڈہ، جو شہر کریات گات میں واقع ہے، ٹرمپ منصوبے کے دوسرے مرحلے کو نافذ کرنے کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہے۔

اس منصوبہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا مقصد مزاحمتی قوتوں کو غیر مسلح کرنا اور غزہ پٹی پر امریکی سکیورٹی نظام مسلط کرنا ہے۔ اخبار یدیعوت آحارونوت کی رپورٹ کے مطابق صہیونی حکومت کی سکیورٹی کابینہ اس ہفتے ایک اجلاس منعقد کرے گی، جو براہِ راست امریکی نمائندوں کی نگرانی میں ہوگا۔ اسی سلسلے میں امریکہ کے نائب صدر جی ڈی ونس تل ابیب پہنچیں گے، تاکہ جَیرڈ کُشنر اور اسٹیو وِٹکاف کے ساتھ مل کر جنگ بندی کو مستحکم کرنے اور منصوبے کے نفاذ کے عمل کی نگرانی کریں۔ اس عبرانی اخبار نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل اب ایک "محفوظ امریکی علاقہ" بن چکا ہے۔ ایک ایسی جگہ جہاں فیصلے واشنگٹن میں کیے جاتے ہیں اور تل ابیب محض ان احکامات پر عمل درآمد کرتا ہے۔ امریکی نمائندوں کی کریات گات فوجی اڈے پر موجودگی اور معاہدے کی تفصیلات پر ان کی نگرانی بھی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ واشنگٹن کی مداخلت قابض حکومت کے سیاسی و عسکری ڈھانچے میں کتنی گہری ہوچکی ہے۔

اسرائیل کا ایک سکیورٹی وفد جس میں فوج اور انٹیلی جنس کے نمائندے شامل ہیں، قاہرہ روانہ ہوا ہے، تاکہ جنگ کے بعد کے مرحلے اور غزہ کی تعمیرِ نو کے بارے میں مذاکرات کرسکے۔ تاہم، عبرانی ذرائع اس بات پر زور دیتے ہیں کہ زمینی حقائق کا تعین امریکہ ہی کر رہا ہے۔ جیسا کہ ٹرمپ کی جانب سے انسانی امداد دوبارہ شروع کرنے کے حکم کے صرف ایک دن بعد ہی اسرائیل نے پیچھے ہٹتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ سرحدی راستے کھول دے گا، اگرچہ رفح کراسنگ اب بھی بند ہے، تاکہ اسرائیلی قیدیوں کی لاشوں کی صورتحال واضح ہوسکے۔ کریات گات میں امریکہ کا فوجی اڈہ 200 امریکی فوجیوں کی موجودگی کے ساتھ کام شروع کرچکا ہے اور اس کا کام غیر ملکی فوجی دستوں کی غزہ میں داخلے کی نگرانی کرنا ہے۔ یہ دستے مختلف ممالک، بشمول امارات، انڈونیشیا، آذربائیجان، مصر اور ممکنہ طور پر قطر اور ترکی سے ہوں گے۔ اس اڈے کی کمان امریکی جنرل پاتریک فرانک کے سپرد ہے، جبکہ نائب کمانڈر ایک برطانوی جنرل ہوں گے۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق معاہدے کے دوسرے مرحلے میں ہزاروں غیر ملکی فوجی غزہ میں داخل ہوں گے، جن کا مشن مزاحمت کو غیر مسلح کرنا اور دفاعی ڈھانچوں، بشمول سرنگوں، کو تباہ کرنا ہوگا۔ صہیونی حکومت نے امریکی حکام کے ساتھ ملاقات میں اپنے قیدیوں کی تلاش کے عمل کو تیز کرنے اور حماس کی طرف سے ان کی واپسی کی ضمانت لینے کا مطالبہ کیا ہے اور یہ اعلان بھی کیا ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو قیدیوں کی لاشوں کی واپسی اور مزاحمت کے مکمل غیر مسلح ہونے سے مشروط ہوگی۔ یہ پیشرفت اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ امریکہ کھلے عام غزہ کے سیاسی اور سکیورٹی مستقبل کو انجینئر کرنے اور اپنی مرضی فلسطینی عوام پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن عوامی مزاحمت اور مزاحمتی دھاروں کی بیداری کے باعث یہ منصوبہ بھی ماضی کی طرح بلاشبہ ناکامی سے دوچار ہوگا۔

شرم الشیخ اجلاس کے حوالے سے حماس کا موقف انتہائی سیاسی پختگی پر مبنی ہے، یوں معلوم ہوتا ہے کہ شائد حماس کی قیادت دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہوکر ٹھوس حکمت عملی کیساتھ آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ یقینی طور پر امریکہ کا نیا منصوبہ نیتن یاہو کا بھی حمایت یافتہ ہے۔ جو اس جانب اشارہ ہے کہ ہم تو حماس کو ختم نہیں کرسکے، تم آو اور ہماری مدد کرو۔ اگر یوں کہا جائے کہ غزہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی تو غلط نہ ہوگا، بلکہ اس کی کمانڈ اسرائیل کی بجائے واشنگٹن نے سنبھال لی ہے۔ اس صورتحال میں پورے خطہ کا امن ایک مرتبہ پھر داو پر لگ رہا ہے۔ امریکہ ہر صورت مقاومت کو براہ راست چیلنج کرنے کی کوشش میں ہے، جہاں یہ صورتحال امریکی براہ راست مداخلت کو واضح کرتی ہے، وہیں اسرائیل کی ناکامی کا بھی واضح ثبوت ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا وہ عرب و مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک جو ٹرمپ منصوبہ کو "امن منصوبہ" کو نام دے رہے تھے، کہیں ایک بار پھر اہل غزہ کیساتھ خیانت کے مرتکب تو نہیں ہوئے۔؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کی نگرانی ختم نہیں غیر ملکی کہ غزہ رہا ہے کیا ہے

پڑھیں:

قابلِ فخر سعد ایدھی

کراچی ایئرپورٹ پر 23 ء مئی کو ایک ہجوم جمع تھا۔ اس ہجوم کے شرکاء جس میں مرد ، عورتیں، جوان اور بچے شامل تھے، سعد ایدھی کے استقبال کے لیے دور دراز علاقوں سے ایئرپورٹ پہنچے تھے۔ اس ہجوم میں فیصل ایدھی اور ان کی اہلیہ بھی شامل تھیں جو اپنے بیٹے کے استقبال کے لیے آئی تھیں۔ا ن کے ساتھ سعد ایدھی کی اہلیہ بھی تھی جن کی گود میں تین ماہ کی بچی بھی تھی۔ فیصل اپنے والد عبدالستار ایدھی کی روایت کے امین ہیں۔ عبدالستار ایدھی نے بہادری کے ساتھ انسانوں کی مدد کرنے کی زندہ مثالیں قائم کی تھیں۔ فیصل کو فخر ہے کہ ان کا بیٹا ان کے والد کے راستے پر گامزن ہے۔

سعد ایدھی اسرائیل کے کنسرٹیشن کیمپ سے رہا ہو کر ترکیہ پہنچے تھے تو استنبول سے کراچی آرہے تھے۔ سعد ایدھی نے جب فلوٹیلا میں سفر کر کے اسرائیل کا محاصرہ توڑ کر غزہ جانے کا فیصلہ کیا تھا تو ایدھی خاندان کے لیے ایک بری خبر تھی اور اس خبر کا ایک واضح پس منظر تھا۔ چند ماہ قبل ایک اور فلوٹیلا میں سوار ہو کر 430 کے قریب رضاکار غزہ روانہ ہوئے تھے تو اسرائیل کی نیوی نے بین الاقوامی سمندر میں فلوٹیلا پر فائرنگ کی تھی اور توپوں کے گولے پھینکے تھے۔

اسرائیلی فوجوں نے اس فلوٹیلا کے قافلے میں سوار افراد کو گرفتار کر کے بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور عام خیال تھا کہ اس دفعہ اسرائیل کی نیوی فلسطینی شہریوں سے یکجہتی کے لیے آنے والے افراد کو ہلاک کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ ایدھی خاندان کی خواتین سخت پریشان تھیں مگر سعد ایدھی کے والد فیصل ایدھی نے اپنے بیٹے کو اس خطرناک مشن پر جانے سے نہیں روکا تھا، یوں سعد کا حوصلہ بہت بلند ہوگیا تھا۔

غزہ کا علاقہ فلسطین میں شامل ہے۔ فلسطین کے دو حصے دریائے اردن کے مغربی کنارے سے متصل ہیں۔ غزہ کی سرحد ایک طرف مصر سے ملتی ہے تو جنوبی مغرب میں اسرائیل ہے اور مشرق اور جنوب میں بحیرہ روم واقع ہے۔ بحیرہ روم جس کو انگریزی میں Mediterraneen Sea کہا جاتا ہے، یہ افریقہ، یورپ اور ایشیا کے درمیان سمندر ہے جو تقریباً چاروں طرف سے زمین پر بھی گھرا ہوا ہے۔

یہ صرف وہاں سے کھلا ہوا ہے جہاں اسپین اور فرانس آمنے سامنے ہیں اور درمیان میں چند کلومیٹر کا سمندر بحیرہ روم کے شمال میں یورپ، جنوب میں افریقہ اور مشرق میں ایشیا موجود ہے۔ بحیرہ روم 2.5 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اسرائیل نے گزشتہ بہت برسوں سے فلسطین کے تمام علاقوں کا بحیرہ روم کے راستہ کا گھیراؤ کیا ہوا ہے۔ غزہ اور فلسطین کے دیگر علاقوںمیں آباد عرب باشندوں کو بحیرہ روم میں نقل و حمل کی اجازت نہیں ہے۔ فلسطین سے محبت کرنے والے سماجی کارکن جن میں یورپ، امریکا، ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے ممالک کے شہری بھی شامل ہیں مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ اسرائیل کی ناکہ بندی کو ختم کرایا جائے۔

ان کارکنوں نے فلوٹیلا میں شامل بہت سے چھوٹے جہازوں کا کاررواں کے ذریعے جس میں دنیا بھر کے سماجی و سیاسی کارکن، صحافی اور خواتین شامل ہیں نے غزہ کے ساحل پر پہنچنے کا طریقہ اپنایا ہوا ہے۔ یہ کارکن اپنے خرچہ پر ترکیہ میں جمع ہوتے ہیں اور پھر یہ قافلہ بحیر ئہ روم سے گزرتا ہوا غزہ کے قریب پہنچتا ہے۔ پہلے تو اسرائیلی فوجیں غزہ کے قریب فلوٹیلا سے جہازوں میں سوار افراد کو بندرگاہ سے ہی نکال دیتے تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کا رویہ غیر انسانی ہوتا گیا۔ سعد ایدھی ترکیہ کی بندرگاہ Marmaris Port سے روانہ ہوئے تھے۔ ابھی یہ قافلہ فلسطین اور اسرائیل سے بہت دور بین الاقوامی سمندر میں پہنچا تھا کہ اسرائیل کی گن بوٹس نے فلوٹیلا کے جہازوں پر مارٹر توپ کے گولے پھینکنے شروع کردیے۔ پھر ان فوجیوں نے ربڑ کی گولیاں چلانا شروع کردیں ۔

بین الاقوامی سمندر میں اسرائیل کی اس جارحیت کا کئی جواز نہیں تھا مگر پھر یہ فوجی چھوٹے جہازوں میں کود گئے اور فلوٹیلا کے جہازوں میں رضاکاروں کی کی آنکھوں میں پٹیاں باندھ دی گئیں اور جب یہ لوگ بندرگاہ پر پہنچے تو فلوٹیلا میں شامل 450 افراد کو جن میں بوڑھے، بچے اور خواتین بھی شامل تھے گھسیٹ گھسیٹ کر چھوٹی سی جیل میں دھکیل دیا گیا۔ سعد ایدھی نے کراچی میں بتایا کہ تمام لوگوں کو مسلسل مرغے بنا کر رکھا گیا۔ اسرائیلی فوجی ان رضاکاروں پر بندوق کے پٹ سے حملہ کرتے رہے اور خاص طور پر گھٹنوں اور پسلیوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔ کئی افراد کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔

Global Sumud Flotilla کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجیوں نے کم از کم 15 افراد کو جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔ ان منتظمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجی دستے نے ایک جہاز کو کنسرٹیشن کیمپ میں تبدیل کیا اور اس جہاز کے گرد خاردار تار لگادیئے گئے۔ پھر اس عارضی جیل میں کم گنجائش کے باوجود 450کے قریب رضاکاروں کو رکھا گیا۔ آسٹریلین ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے جانوروں سے زیادہ بدتر سلوک کیا ۔ اٹلی کے ماہرمعاشیات نے اسرائیلی فوج کے بدترین سلوک کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ انھیں 24 گھنٹوں کے دوران بار بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کئی دفعہ رضاکاروں کو زمین پر گھسیٹا گیا ، ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں اور انھیں پینے کے لیے پانی تک نہیں دیا گیا۔

سعد ایدھی نے بتایا کہ دون دن کی قید کے دوران صرف ایک ایک بوتل پانی دیا گیا۔ پھر تقریباً ہر رضاکار کے گھٹنوں کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسرائیل کے وزیر دفاع نے ایک رضا کار لڑکی کے بال کھینچے اور یہ وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تو یورپ میں شدید احتجاج ہوا۔ فرانس کی حکومت نے اسرائیلی وزیر دفاع کا ویزا منسوخ کردیا۔ یورپی یونین کی ترجمان نے اسرائیل کے رضاکاروں پر تشدد کی شدید مذمت کی۔ برطانیہ، جرمنی، اسپین اور دنیا بھر کے دیگر ممالک نے مظلوم رضاکاروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

اسرائیل کی حکومت کو اس بات کی توقع نہیں تھی کہ ایشیائی اور افریقی ممالک کے علاوہ برطانیہ ، فرانس اور جرمنی وغیرہ بھی اسرائیل کی انسان دشمن پالیسیوں کے خلاف اتنا سخت ردعمل ظاہر کریں گے۔اس فلوٹیلا کے 50 جہازوں میں زیادہ تعداد اسپین اور دیگر یورپی ممالک کے باشندوں کی تھی۔ یہ لوگ اسرائیل کے جرائم کو آشکار کرنے کے لیے فلوٹیلا کے جہازوں میں سوار ہوئے تھے۔

انھیں اگرچہ اپنے مشن کی کامیابی کی زیادہ امید نہیں تھی مگر انسانیت کی خاطر اور غزہ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے یہ تمام افراد اس فلوٹیلا کا حصہ بنے تھے۔ اس فلوٹیلا میں شریک سماجی کارکنوں نے اسپین کی خانہ جنگی کی یاد تازہ کردی۔ جب اسپین کے فاشسٹ جنرل فرانکو کی حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے والے اس بریگیڈ میں دنیا بھر کے ادیب، شاعر اور دانشور شامل ہوئے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ فلوٹیلا کے رضاکاروں پر اسرائیلی فوج کے بیہمانہ سلوک کے خلاف عالمی عدالت انصاف فوری طور پر کارروائی کرے اور اسرائیل کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں۔

فلسطین کے لیے جدوجہد کرنے والے یہ مختلف ممالک کے کارکن صرف فلسطین کے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ سعد ایدھی پر پوری قوم کو فخر ہے۔ سعد ایدھی اور دیگر انسانی حقوق کے کارکنوں نے جو جدوجہد کی ہے، وہ وقت جلد آئے گاجب اس جدوجہد کے مثبت نتائج برآمد ہونگے اور فلسطین ایک متحدہ ملک کے طور پر دنیا کے نقشہ پر ابھرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید