data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251022-08-19
کراچی(اسٹاف رپورٹر) نائب امیر جماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ کے الیکٹرک اور پیپلز پارٹی کی انتظامیہ اگر یہ سمجھتی ہے کہ جماعت اسلامی کے چیئرمین اور کارکنان کو گرفتار کر کے تحریک کو دبایا جا سکتا ہے تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ اگر کے الیکٹرک نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تو جماعت اسلامی بھرپور احتجاجی تحریک چلائے گی، اور اگر کسی نے راستہ روکنے کی کوشش کی تو حالات کی تمام تر ذمے داری قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عاید ہوگی۔کے الیکٹرک انتظامیہ شہریوں سے پورا بل وصول کرتی ہے لیکن انہیں اندھیروں اور لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا رکھتی ہے۔ کے الیکٹرک مافیا ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح کراچی کے عوام کا خون نچوڑ رہی ہے۔ گھروں میں بچے، بوڑھے اور خواتین موجود ہوتے ہیں، اس کے باوجود گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ ظلم کی بدترین مثال ہے۔ظلم تو یہ ہے کہ شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق نہیں دیے جاتے اور جب وہ احتجاج کرتے ہیں تو پولیس ان پر لاٹھیاں برسانے اور گرفتار کرنے پہنچ جاتی ہے،شہر کی سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں، گٹر ابل رہے ہیں اور شہریوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے، کراچی کی تباہی اور بربادی میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں برابر کی شریک ہیں۔ جماعت اسلامی اول روز سے کے الیکٹرک کے خلاف سراپا احتجاج ہے اور عوامی حق کے لیے میدان میں کھڑی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی یوسی 11 لائنز ایریا کے چیئرمین نعمان حمید کی خلافِ قانون گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مظاہرے سے امیر جماعت اسلامی ضلع قائدین انجینئر عبد العزیز اور چیئرمین یوسی 11لائنزایریا نعمان حمید نے بھی خطاب کیا۔ مظاہرین نے کے الیکٹرک انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی اورکے الیکٹرک کو سپورٹ فراہم کرنے والی پارٹیوں کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔مظاہرے میں کے الیکٹرک کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے متاثرہ لائنز ایریا کی خواتین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ پاکستان کو وجود میں آئے 77 برس گزر چکے ہیں، لیکن آج بھی عوام کو اپنی بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے سڑکوں پر احتجاج کرنا پڑتا ہے۔ یہ اس نظام کی ناکامی کا ثبوت ہے جس نے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مسائل میں دھکیل دیا ہے۔ کراچی کے عوام اپنے حقوق کے حصول کے لیے جماعت اسلامی کی ’’حق دو کراچی تحریک‘‘ کا حصہ بنیں، کیونکہ یہی وہ تحریک ہے جو عوامی حقوق کی بحالی کی ضامن ہے۔ کراچی کے عوام ٹیکس دیتے ہیں لیکن انہیں بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔ سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ پورے ملک میں جبر کا نظام مسلط کیا جا رہا ہے۔ قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستیں جماعت اسلامی سے چھین لی گئیں، بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کے منتخب میئر کو روکا گیا اور آمریت کو مضبوط کرنے میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں برابر کی شریک ہیں۔اب وقت آگیا ہے کہ کراچی کے عوام ظالموں کو پہچانیں جو اربوں روپے کی کرپشن کے باوجود عوام کو دھوکا دیتے ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ وہ ظلم و ناانصافی کے اس نظام کے خاتمے اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے جماعت اسلامی کی جدوجہد میں شامل ہوں تاکہ کراچی کو اس کے حقیقی مقام پر واپس لایا جا سکے۔انجینئر عبدالعزیز نے کہا ہے کہ حق دو کراچی تحریک کا آغاز موجودہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں کیا گیا تھا اور آج یہ تحریک پورے جوش و جذبے کے ساتھ جاری ہے۔ جماعت اسلامی عوام کے ساتھ کھڑی تھی، ہے اور ہمیشہ کھڑی رہے گی۔یوسی چیئرمین نعمان حمید کی گرفتاری نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ یہ کے الیکٹرک مافیا کے دباؤ میں آکر کی گئی انتقامی کارروائی ہے۔ جماعت اسلامی اس گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ ایسے ہتھکنڈوں سے جماعت اسلامی کے کارکنان کو عوامی خدمت اور حق کے لیے آواز بلند کرنے سے روکا نہیں جا سکتا۔نعمان حمید نے کہا کہ لائنز ایریا کے عوام 30 گھنٹے کی طویل اور اذیت ناک لوڈشیڈنگ کے خلاف سراپا احتجاج تھے۔ عوام مسلسل بجلی کی بندش سے تنگ آ کر سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوگئے۔یوسی 11 کے علاقے میں 24 گھنٹوں میں سے 17 گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے اور عوام کو صرف 7 گھنٹے کے لیے بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں۔ اتوار کی رات کے الیکٹرک کے ایما پر مجھے گرفتار کیا گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر کوئی ادارہ جاتی ظلم کے خلاف آواز اٹھائے گا تو اسے دبانے کی کوشش کی جائے گی۔انہوںنے کہا کہ کے الیکٹرک نے ایک بار پھر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ ایک مافیا کے طور پر کام کر رہی ہے اور عوامی نمائندوں کو گرفتار کروا کر اپنے ظلم کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ جیل کی سلاخیں ہمیں عوامی حقوق کے لیے جدوجہد اور دھرنوں سے نہیں روک سکتیں۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کراچی کے عوام جماعت اسلامی کے الیکٹرک سیف الدین نے کہا کہ کے خلاف عوام کو کے لیے ہے اور

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی