اجتماع عام کا سلوگن بدلو نظام عوام کے دلوں کی آواز ہے‘ رخشندہ منیب
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)ناظمہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی صوبہ سندھ رخشندہ منیب نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کا مینارپاکستان لاہور میں ہونے والا اجتماعِ عام محض ایک سیاسی اجتماع نہیں بلکہ حق و باطل کے معرکے میں حق کی قوت کو منظم کرنے کی علامت ہے۔ موجودہ بوسیدہ نظام نے عوام سے روٹی، روزگار، انصاف اور امن چھین لیا ہے۔ اشرافیہ عیاشی میں مگن ہے جبکہ عام آدمی مہنگائی، بے روزگاری اور ناامیدی کے بوجھ تلے دب چکا ہے۔ ایسے میں جماعت اسلامی کے اجتماع عام کا سلوگن ’’بدلو دونظام‘‘ نہ صرف پاکستان کے موجودہ صورت حال کی عکاسی کرتا ہے بلکہ عوام کے دلوں کی آواز ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اجتماع عام کی تیاریوں کے حوالے سے منعقدہ ذمے داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ناظمہ صوبہ رخشندہ منیب نے مزید کہا کہ یہ اجتماع عام دراصل ظلم و جبر کے نظام کے خلاف ایک پرامن انقلاب کی ابتدا ہے۔ یہ قوم کے لیے امید، بیداری اور ایمان کی تجدید کا پیغام لے کر آئے گا۔ انہوں نے صوبہ سندھ کی خواتین سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں اجتماع عام میں شریک ہوں اور اس جدوجہد کا حصہ بنیں جو پاکستان کو ایک منصفانہ، باعزت اور اسلامی ریاست بنانے کے لیے جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔