ٹرمپ نے منشیات فروش کو عراق میں ایلچی مقرر کردیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشی گن میں مقیم منشیات فروش مارک ساویا کو عراق کے لیے اپنا خصوصی ایلچی مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ مارک ساوایا عراق کے لیے خصوصی ایلچی کے طور پر کام کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عراق امریکاتعلقات کے بارے میں مارک کی گہری سمجھ اور خطے میں ان کے روابط امریکی عوام کے مفادات کو آگے بڑھانے میں مدد کریں گے۔دوسری جانب اس تقررنے مارک ساوایا کے غیر روایتی پس منظر کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تنازع پیدا کردیا ہے۔ دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق مشی گن میں چرس کی دکانوں کا سلسلہ چلانے والا یہ شخص اپنے بل بورڈ اشتہارات کے لیے جانا جاتا ہے۔ مارک ساوایا سنٹرلائن ہازل پارک اور لیونوئس ڈیٹروئٹ کے مغرب میں چرس کے ریٹیل اسٹورزلیف اینڈ بڈ کی چین کے مالک ہیں،جب کہ ان کے پاس حکومت کا کوئی سابق تجربہ بھی نہیں ہے۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں امریکاعراق تعلقات کے بارے میں ان کی گہری سمجھ اور اپنی مہم میں مشی گن میں مسلم امریکی ووٹ حاصل کرنے میں ان کے تعاون کی تعریف کی تھی۔مشی گن نے 2018 ء میں بھنگ کی فروخت کو قانونی حیثیت دی تھی اور اس کے طبی استعمال کو ایک دہائی قبل قانونی حیثیت دی گئی تھی لیکن یہ وفاقی قانون کے تحت غیر قانونی ہے۔ مارک ساویا سے متعلق یہ انکشاف روسی اسرائیلی محقق الزبتھ تسرکوف کی طرف سے سامنے آیا ہے جسے 2023 ء میں عراق میں اغوا کیا گیا تھااور حال ہی میں رہا کیا گیا ہے۔ تسرکوف نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں انکشاف کیا کہ مارک ساوایا نے عراقی حزب اللہ بریگیڈز کے ہاتھوں 903 دن کی قید کے بعد ان کی رہائی میں اہم کردار ادا کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔