سندھ میں ڈینگی کے وار جاری، کیسز کی تعداد 920 تک جا پہنچی
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
سندھ بھر میں ڈینگی وائرس کے کیسز میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جب کہ کراچی ڈویژن سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ بن کر سامنے آیا ہے۔
محکمہ صحت سندھ کی تازہ رپورٹ کے مطابق رواں سال 2025 میں اب تک ڈینگی کے920 مصدقہ کیسز سامنے آ چکے ہیں، جن میں صرف اکتوبر کے مہینے میں 276 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
کراچی میں صورتحال سنگین:
اعداد و شمار کے مطابق ڈینگی سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ کراچی ہے، جہاں 124 کیسز رپورٹ ہوئے۔ دیگر شہروں میں حیدرآباد سے 82، میرپورخاص سے 58، سکھر سے 9، شہید بینظیرآباد سے 2 اور لاڑکانہ سے 1 کیس سامنے آیا ہے۔
انسدادِ ڈینگی مہم تیز:
وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے انسدادِ ڈینگی اقدامات کو مزید تیز کر دیا ہے۔ تمام اضلاع میںاسپرے، فاؤگنگ اورنکاسیٔ آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
انہوں نے کہاہم نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی صحت افسران کو ہدایت دی ہے کہ کسی بھی علاقے میں پانی کھڑا نہ ہونے دیا جائے، کیونکہ یہی مچھر کی افزائش کا سب سے بڑا ذریعہ بنتا ہے۔
سرکاری اسپتالوں میں خصوصی انتظامات:
ڈاکٹر عذرا پیچوہو کے مطابق تمام سرکاری اسپتالوں میں ڈینگی کے مریضوں کے لیےالگ یونٹس قائم کیے گئے ہیں، جہاںمفت علاج اور ٹیسٹنگ کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی:
اپنے گھروں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں، چھتوں، گملوں اور صحن میں پانی جمع نہ ہونے دیں۔ مچھر سے بچاؤ کے اسپرے استعمال کریں، اور اگر بخار ہو تو فوراً قریبی اسپتال سے رجوع کریں۔ ڈینگی ایک قابلِ علاج مرض ہے، اگر ہم سب مل کر احتیاط کریں تو اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
مانیٹرنگ کا عمل جاری
وزیر صحت نے یقین دہانی کرائی کہ ڈینگی مانیٹرنگ ٹیمیں روزانہ کی بنیاد پر متاثرہ علاقوں کا جائزہ لے رہی ہیں اورصورتحال کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔
قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی جو سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور خچروں کی تعداد 1.8 فیصد اضافے کے بعد دو لاکھ 21 ہزار ہوگئی ہے۔
سروے میں بتایا گیا کہ گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے جو 3.8 فیصد اضافہ ہے، بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی اور سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
قومی اقتصادی سروے میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ہوگئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے میں 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔