کمیٹی نے ہدایت دی کہ گلگت بلتستان حکومت جنگلات کے حوالے سے اقدامات، فیصلے، یا قانون سازی کرنے کی صورت میں کمیٹی اراکین کو لازماً مطلع کرے۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر ،گلگت بلتستان اور سیفران نے گلگت بلتستان میں جنگلات کے تحفظ سے متعلق موسمی اثرات کو کم کرنے کے لئے جاری کوششوں کا براہ راست جائزہ لینے کے لیے بلتستان کا دورہ کیا، کمیٹی کا اجلاس سینیٹر اسد قاسم کی زیر صدارت کمشنر کانفرنس ہال سکردو میں منعقد ہوا۔سیکریٹری جنگلات گلگت بلتستان نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گلگت بلتستان فاریسٹ ایکٹ 2019ء نافذ العمل ہے، جس کے تحت جنگلات کے انتظام و تحفظ کے لیے ایک جامع قانونی فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ڈویژنل فاریسٹ آفیسرز (DFOs) کو مجسٹریٹ کے اختیارات تفویض کیے گئے ہیں تاکہ جنگلاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

سیکریٹری جنگلات نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اب تک غیر قانونی 11 لاکھ فٹ لکڑی ضبط کی جا چکی ہے، تاہم اس کے قانونی اور منظم استعمال کے لیے گلگت بلتستان حکومت ایک جامع ورکنگ پلان تیار کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جنگلات کا محکمہ جو ماضی میں وفاقی حکومت کے دائرۂ کار میں آتا تھا، 2018ء میں گلگت بلتستان حکومت کے ماتحت کر دیا گیا، جس کے بعد مقامی سطح پر قانون سازی اور عمل درآمد ممکن ہو سکا۔ چیئرمین کمیٹی کے سوال پر کمشنر بلتستان ڈویژن نے وضاحت کی کہ خطے میں بجلی کی عدم دستیابی کے باعث سردیوں میں عوام ایندھن کے طور پر لکڑی پر انحصار کرتے ہیں، تاہم وزیراعظم پاکستان کی خصوصی ہدایت پر 100 میگا واٹ سولر پاور پراجیکٹ سکردو  کے لیے منظور کیا گیا ہے۔

مزید برآں، 26 میگاواٹ شغرتھنگ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور 34.

5 میگاواٹ ہرپو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام جاری ہے جو 2030ء تک سسٹم میں شامل ہو جائیں گے۔ ان منصوبوں سے نہ صرف بجلی کی قلت میں کمی آئے گی بلکہ ایندھن کے متبادل ذرائع کی دستیابی سے جنگلات کی کٹائی میں بھی کمی واقع ہو گی۔ کمیٹی نے ہدایت دی کہ جنگلات سے متعلق ورکنگ پلان جلد از جلد  کمیٹی کے ساتھ شیئر کیا جائے، اور لوکل کمیونٹی میں جنگلات کے تحفظ کے لیے آگاہی و حوصلہ افزائی کے لیے انسنٹئوز دیا جائے۔ تاکہ مقامی آبادی کی شراکت سے جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔مزید برآں کمیٹی نے ہدایت دی کہ گلگت بلتستان حکومت جنگلات کے حوالے سے اقدامات، فیصلے، یا قانون سازی کرنے کی صورت میں کمیٹی اراکین کو لازماً مطلع کرے۔ بعد ازاں کمیٹی ممبران نے ایڈمنسٹریشن کمپلیکس میں پودے بھی لگائے۔
 

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گلگت بلتستان حکومت جنگلات کے کے لیے

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع

فائل فوٹو 

آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی، میرپور ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا عمل شروع کیا، آزاد کشمیر میں 5 جون سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔

آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی، چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے انٹرنیٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع