سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان کا سکردو میں اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
کمیٹی نے ہدایت دی کہ گلگت بلتستان حکومت جنگلات کے حوالے سے اقدامات، فیصلے، یا قانون سازی کرنے کی صورت میں کمیٹی اراکین کو لازماً مطلع کرے۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر ،گلگت بلتستان اور سیفران نے گلگت بلتستان میں جنگلات کے تحفظ سے متعلق موسمی اثرات کو کم کرنے کے لئے جاری کوششوں کا براہ راست جائزہ لینے کے لیے بلتستان کا دورہ کیا، کمیٹی کا اجلاس سینیٹر اسد قاسم کی زیر صدارت کمشنر کانفرنس ہال سکردو میں منعقد ہوا۔سیکریٹری جنگلات گلگت بلتستان نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گلگت بلتستان فاریسٹ ایکٹ 2019ء نافذ العمل ہے، جس کے تحت جنگلات کے انتظام و تحفظ کے لیے ایک جامع قانونی فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ڈویژنل فاریسٹ آفیسرز (DFOs) کو مجسٹریٹ کے اختیارات تفویض کیے گئے ہیں تاکہ جنگلاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
سیکریٹری جنگلات نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اب تک غیر قانونی 11 لاکھ فٹ لکڑی ضبط کی جا چکی ہے، تاہم اس کے قانونی اور منظم استعمال کے لیے گلگت بلتستان حکومت ایک جامع ورکنگ پلان تیار کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جنگلات کا محکمہ جو ماضی میں وفاقی حکومت کے دائرۂ کار میں آتا تھا، 2018ء میں گلگت بلتستان حکومت کے ماتحت کر دیا گیا، جس کے بعد مقامی سطح پر قانون سازی اور عمل درآمد ممکن ہو سکا۔ چیئرمین کمیٹی کے سوال پر کمشنر بلتستان ڈویژن نے وضاحت کی کہ خطے میں بجلی کی عدم دستیابی کے باعث سردیوں میں عوام ایندھن کے طور پر لکڑی پر انحصار کرتے ہیں، تاہم وزیراعظم پاکستان کی خصوصی ہدایت پر 100 میگا واٹ سولر پاور پراجیکٹ سکردو کے لیے منظور کیا گیا ہے۔
مزید برآں، 26 میگاواٹ شغرتھنگ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور 34.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان حکومت جنگلات کے کے لیے
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔