لاہور؛ گلے میں ڈور پھرنے سے موٹر سائیکل سوار نوجوان جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
لاہور:
نواں کوٹ کے علاقے میں موٹر سائیکل سوار کے گلے پر ڈور پھرنے سے 21 سالہ نوجوان جاں بحق ہوگیا۔
پولیس کے مطابق 21 سالہ نعمان کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جو دم توڑ گیا، لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا گیا۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کرلی جبکہ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کو پتنگ بازی میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا۔
انہوں نے کہا کہ اینٹی کائٹ فلائنگ ایکٹ کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس، پتنگ بازی ممانعت ترمیمی بل کے قانون پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔ آر پی اوز، سی پی اوز، ڈی پی اوز پتنگ بازوں، پتنگ فروشوں، مینوفیکچررز کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی لائیں۔
آئی جی پنجاب نے کہا کہ جان لیوا سرگرمی کی ہرگز اجازت نہیں، خونی دھندے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں، دھاتی ڈور اور پتنگوں کے آن لائن کاروبار میں ملوث عناصر کو بھی قانون کی گرفت میں لایا جائے۔
ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا تھا کہ والدین اپنے بچوں کو اس خونی کھیل سے دور رکھیں، شہری کسی بھی مقام پر پتنگ بازی کی صورت میں 15 پر اطلاع دے کر ذمہ داری کا ثبوت دیں۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق رواں سال لاہور سمیت صوبہ بھر میں انسداد پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی پر 5967 ملزمان گرفتار، 5784 مقدمات درج کیے گئے جبکہ 5لاکھ 29 ہزار 814 پتنگیں، 21 ہزار 301 ڈور چرخیاں برآمد، 5362 کیسز کے چالان جمع کروائے گئے۔
صوبائی دارالحکومت میں 1654 ملزمان گرفتار، 1620 مقدمات درج، 35420 پتنگیں، 1753 ڈور چرخیاں برآمد کی گئیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ڈور پھرنے سے موٹر سائیکل سوار نوجوان کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے 21 سالہ نعمان کے سوگوار خاندان سے اظہار ہمدردی و تعزیت کی جبکہ غیر قانونی پتنگ بازی کے واقعے پر سخت غم و غصہ کا اظہار کیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیتے ہوئے سی سی پی او سے رپورٹ طلب کر لی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پتنگ بازی
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔